قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ بنگلادیش میں انہیں اور پاکستانی وفد کو غیر معمولی اور والہانہ استقبال ملا، جہاں مسلسل ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’آئی لو پاکستان‘‘ کے نعرے سنائی دیتے رہے۔
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ اس موقع پر ڈھاکا میں ایک اہم اور غیر متوقع سفارتی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خود چل کر ان سے ملاقات کے لیے آئے اور دونوں کے درمیان مصافحہ ہوا۔
ایاز صادق نے بتایا کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خود ان کے پاس آئے، مسکرا کر ہاتھ ملایا اور مختصر ملاقات کی، جبکہ اس موقع پر کیمرے بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ان کے مطابق جے شنکر کو بخوبی اندازہ تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں معلوم تھا کہ یہ ملاقات اور مصافحہ میڈیا میں رپورٹ ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں اسپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ جنازہ گاہ کی طرف جاتے ہوئے ان کی گاڑی پر پاکستان کا قومی پرچم نصب تھا۔ جیسے ہی لوگ گاڑی پر لگے سبز ہلالی پرچم کو دیکھتے، وہ ہاتھ ہلانا شروع کر دیتے اور خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں گاڑی کا شیشہ کھولنے سے منع کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے شیشہ نیچے کیا تو لوگ کیمرے لے کر آگے آ گئے اور تصاویر بنانا شروع کر دیں۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ بہت سے افراد کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہیں، لیکن انہیں یہ ضرور پتا تھا کہ وہ پاکستان کے نمائندے ہیں۔ لوگ آگے بڑھ کر ہاتھ ملاتے، دور سے سلام کرتے اور محبت کا اظہار کرتے رہے۔ پولیس انہیں پیچھے ہٹانے کی کوشش کرتی رہی، مگر لوگ بار بار آگے آ جاتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پورے دورے کے دوران مسلسل ’’پاکستان زندہ باد‘‘ اور ’’آئی لو پاکستان‘‘ کے نعرے سنائی دیتے رہے، جو بنگلادیشی عوام کے پاکستان سے جذباتی تعلق کا واضح اظہار تھے۔ ان کے مطابق یہ استقبال نہ صرف یادگار تھا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود تاریخی اور ثقافتی رشتوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

