اسلام آباد: پاکستان نے یمن میں ایک بار پھر تشدد میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یمن کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن میں پائیدار امن و استحکام کے لیے کی جانے والی تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یکطرفہ اقدامات نہ صرف صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتے ہیں بلکہ امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے امن و سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تحمل، ضبط اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی اشد ضرورت ہے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ نہ ہو۔
اسی دوران غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی اتحاد کی جانب سے یمن میں ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی حملے سے قبل کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ چکی ہے، جس کے بعد خطے میں حالات مزید حساس ہو گئے ہیں۔ ان پیش رفتوں کے تناظر میں پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے کی جانے والی علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مملکت کی سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سکیورٹی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ یمن کے مسئلے کا حل صرف مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور مذاکرات کی میز پر آ کر ایک جامع، قابل قبول اور دیرپا حل کی طرف پیش قدمی کریں۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر ایسے حل کی جانب بڑھیں گی جو نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سودمند ثابت ہو۔
ترجمان دفتر خارجہ نے آخر میں کہا کہ یمن میں پائیدار تصفیہ خطے کے استحکام، ترقی اور امن کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے اور پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے ہر سطح پر تعاون جاری رکھے گا۔
