روسی مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے اجلاس کو سرکس قرار دے دیا۔
روسی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس سرکس سے زیادہ کچھ نہیں اور اسے بلانا شرمناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس عالمی امن کے لیے بلایا جانا چاہیے تھا، نہ کہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے، کیونکہ بیرونی قوتیں ایران میں موجودہ حالات کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔
ایران کے نائب مندوب نے کہا کہ کشیدگی یا تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اگر جارحیت ہوئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
روسی مندوب نے مزید کہا کہ شہریوں اور املاک کا تحفظ ایرانی حکومت کی ترجیح ہے۔ امریکا کی جانب سے ایرانی عوام کو اداروں پر قبضہ کرنے کی ترغیب دی گئی، جو کسی بھی ملک کی سالمیت کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں وسیع پیمانے پر لوگ نکلے، اور امریکی کارروائی سے پورا خطہ مزید بحران کا شکار ہو جائے گا۔
اس کے علاوہ روس کی جانب سے مسائل کے پرامن حل میں تعاون کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔

