اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کیس میں سزایافتہ پی ٹی آئی ایم این اے عبداللطیف چترالی کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست مسترد کر دی جبکہ 26 نومبر احتجاج کے 229 مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کردی۔
اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے ممبر قومی اسمبلی عبداللطیف چترالی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ وہ 9 مئی کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں اور انہوں نے ابھی تک عدالت میں سرینڈر نہیں کیا ۔ ایسے شخص کو کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی جو قانون سے بھاگا ہوا ہو ۔ تھانہ سیکرٹریٹ میں درج 26 نومبر احتجاج کے کیس میں بیرسٹر گوہر علی، مرتضیٰ طوری اور انصر کیانی عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے ان کی ضمانت میں 22 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگلی سماعت پر فریقین کے وکلا اپنے دلائل پیش کریں۔
انسداد دہشت گردی عدالت میں 26 نومبر احتجاج سے متعلق مجموعی طور پر 229 ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ۔ جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 22 جولائی تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو متعلقہ مقدمات میں گرفتاری سے روک دیا ۔سماعت کے دوران بشریٰ بی بی، عمر ایوب، شہریار آفریدی، اور ایمان وسیم کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کر لی گئیں۔عدالت میں پیش ہونے والوں میں سیمابیہ طاہر، زرتاج گل، مشعال یوسفزئی، سلمان اکرم راجا ، راجہ بشارت ، عمیر نیازی، شیر علی ارباب، شہرام ترکئی، علی بخاری، رؤف حسن، نعیم پنجوتھا، عالیہ حمزہ شامل تھے۔

