تہران/یروشلم:ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کو صرف چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ دونوں ممالک نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کر دیے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدید ہو گئی ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے سیزفائر کے چند گھنٹے بعد ہی میزائل حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 11 اسرائیلی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حملہ دو مرحلوں میں کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر چھ میزائل داغے گئے۔ ایک میزائل نے ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔اسرائیلی وزیر دفاع نے تہران کو "سیزفائر کی خلاف ورزی” کا مرتکب قرار دیتے ہوئے فوج کو ایران پر جوابی حملے کا حکم دے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم تہران کے مرکز میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔”
ایران کی سخت تردید، جوابی الزام
ایرانی مسلح افواج اور سرکاری میڈیا نے اسرائیلی الزامات کو "جھوٹا اور بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیزفائر کے بعد ایران کی جانب سے کوئی بھی میزائل حملہ نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس، ایرانی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل نے سیزفائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صبح 9 بجے ایران پر تین حملے کیے۔ایرانی اعلیٰ سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ ایران "کسی بھی مزید جارحیت کا فیصلہ کن، سخت اور بروقت جواب دے گا”۔ ترجمان ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ فورسز "ٹریگر پر انگلی رکھے” تیار کھڑی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ان اسرائیلی حملوں میں جوہری سائنسدان محمد رضا صدیقی صابر سمیت 9 افراد شہید اور متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں۔ حملے شمالی صوبہ گیلان اور دارالحکومت تہران کے مضافاتی علاقوں میں کیے گئے، جنہیں مبصرین نے گزشتہ 12 روزہ جنگ کا سب سے شدید حملہ قرار دیا ہے۔اسرائیل میں بھی جنگ بندی کے باوجود دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائیر لاپڈ اور سینٹر لیفٹ پارٹی کے رہنما یائیر گولان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ "اب غزہ میں جنگ ختم کی جائے، یرغمالیوں کو واپس لایا جائے اور قوم کو داخلی طور پر متحد کیا جائے۔”

