Skip to content
  • لیہ
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • کھیل
  • تجارت
  • ٹیکنالوجی
  • صحت
  • شوبز
  • موسم
  • کالم

کرے کوئی بھرے کوئی

Web Desk by Web Desk
جولائی 3, 2025
in کالم
0
کرے کوئی بھرے کوئی

یکم جولائی 2025 کوشیخو پورہ کے علاقے ریگل چوک کی سوشل میڈیا پر ایک افسوسناک، دلخراش، قابل مذمت ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک بزرگ سکیورٹی گارڈ کو ایک ضعیف العمر عورت کو بے دردی کے ساتھ گھسیٹ کر ایک عمارت سے باہر لے جاتے ہوئے دیکھا جاتا ہے، ویڈیو آناً فاناً سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ جس پر صارفین کی جانب سے ایک تنقید کے سلسلے کا آغاز ہوتا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔ واقعہ کے مقام کا تعین کیا جاتا ہے اور بالآخر شیخو پورہ کے تھانہ بی ڈویژن میں ایک مقدمے کا اندراج ہوتا ہے جس میں خالد شہزاد نامی شہری مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ ضروری کام کے سلسلہ میں مین واپڈا آفس ریگل چوک آیا ہوا تھا کہ اس نے دیکھا کہ رحمت کالونی کے رہائشی رب نواز جو کہ واپڈا آفس کے بطور سکیورٹی گارڈ ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے ایک ضعیف العمر عورت کو دھکے مارتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے گھسیٹ کر دفتر سے باہر نکال رہا ہے اور ساتھ ہی یہ کہہ رہا ہے کہ میرے افسران نے کہا ہے کہ اس خاتون کو دھکے دے کر باہر نکالو۔

مقدمے میں 354، 506 اور 509 کی دفعات لگائی جاتی ہیں۔ ایف آئی آر سوشل میڈیا پر ڈالنے کے بعد افسران، پولیس اور معاشرہ ملزم رب نواز کو گرفتار کر کے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ اس واقعہ کے دو مختلف پہلو ہیں جن میں ایک پہلو یہ ہے کہ پنجاب بھر کے تمام اداروں کے دروازوں کے باہر اور افسران کے دفاتر کے دروازوں پر تعینات بیشتر سکیورٹی گارڈز وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری ان کا رویہ عام انسانوں کے ساتھ یہی ہوتا ہے۔ یہ سکیورٹی گارڈز جب دروازوں پر فرائض سر انجام دے رہے ہوتے ہیں تو اپنا عہدہ کمرے میں موجود افسر سے بھی بہتر سمجھتے ہیں۔ یہ نہ صرف آنے والے سائلین کو گالیاں دیتے ہیں، بد تمیزی کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات تھپڑ مارنے اور تشدد کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ سکیورٹی گارڈز اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نہیں بلکہ دوسرے رخ کو دیکھا جائے تو اداروں کے سربراہان کا اختیار استعمال کرتے ہوئے عام عوام بلا تفریق جنس مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، بچہ ہو یا بزرگ سب کے ساتھ ایک ہی رویہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں نادرا آفس لیہ اور چوک اعظم میں جانا ہوا تو وہاں پر دفاتر کے باہر تعینات سکیورٹی گارڈز کا شناختی کارڈ بنوانے کے لئے آنے والے سائلین کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی اور غیر مہذب رویہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ وہ خواتین جو شائد مجبوری کے باعث گھر سے باہر نکلتی ہیں ان کے ساتھ بھی وہی رویہ اپنایا جاتا ہے جو عام مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ دھکے دینا، ذلیل و خوار کرنا، بلاوجہ گالیاں دینا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والی رقوم سنٹرز پر خواتین کی تذلیل ایک عام سی بات ہے۔ جہاں پر تعینات اہلکار خواتین کو ہر حد تک ذلیل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ نادرا آفس کے سکیورٹی گارڈ سے مکالمہ ہوا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو اس نے بتایا کہ اعلیٰ افسران کا حکم ہے کہ ہر گدھے کو اندر نہ بھیج دیا کرو پہلے یا پوچھ لیا کرو یا چیک کر لیا کرو۔ ہمارا معاشرہ ہمارے آفیسر یا اعلیٰ عہدوں پر تعینات لو گ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں اس کی بنیادی وجہ کرپشن، سفارشی کلچر، اختیارات کا ناجائز استعمال، حد سے زیادہ سہولیات، آبادی کا بڑھناسمیت دیگر عوامل ہیں۔ شیخو پورہ واپڈا آفس میں پیش آنے والے حالیہ واقعہ میں بھی سکیورٹی گارڈ کا قصور شائد نہ ہونے کے برابر ہو جن کے احکامات پر خاتون کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا وہ اپنی سیٹوں پر ایئر کنڈیشنر کمروں میں آب و تاب کے ساتھ شہریوں کی کھال اتار رہے ہیں جبکہ ایک ناکردہ جرم کی سزا ایک عام شہری جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا وہ بھگت رہا ہے۔ ایک مثال ہے کہ کرنے والا بچ جاتا ہے اور دیکھنے والا پھنس جاتا ہے جو اس واقعہ پر صادق آتی ہے۔ ایسے واقعات اب روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہی جا رہے ہیں ہر دن ملک بھر سے درجنوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں لیکن بات صرف ایک قانونی کاروائی کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ مقدمات کے اندراج کے باوجود نہ شہریوں کے اور نہ ہی افسران اور سکیورٹی گارڈز کے رویوں پر فرق پڑ رہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے معاشرہ پستی کی گہرائی میں جا رہا ہے اور ہر شہری اس دلدل میں پھنس رہا ہے۔ ویڈیوز، قانونی کاروائی سے ہٹ کر معاشرے کو بہتر سوچنے اور کرنے کی اشد ضرورت ہے جس میں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو اپنے رویے بدلنے پڑیں گے۔

تحمل مزاجی، بردباری اختیار کرنا پڑے گی عدم برداشت کا یہ سلسلہ ختم کرنا پڑے گا۔ آنے والی نوجوان نسل کو ہم کیا پیغام دے رہے ہیں کہ ہم کس جانب جا رہے ہیں کیا ہمارے آباؤ اجداد یہی کام کرتے تھے کیا پر امن معاشرے کی تکمیل اس طرح ہوتی ہے۔ کہیں والد بیٹے کو بیٹا والد کو ماں بیٹی کو اولاد والدین کو زہر دے کر، گولیاں مار کر، چھریاں مار کر جان سے مار رہے ہیں تو کہیں دوست دوست کا دشمن بنا ہوا ہے معاشرے میں دن بدن انارکی پھیلتی جا رہی ہے ہم ہر چیز کا ذمہ دار تو حکومت کو ٹھہراتے ہیں لیکن کوئی بھی اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ چند ٹکوں کے لئے ایک دوسرے کے گلے کاٹے جا رہے ہیں۔ ہر طرف اندرونی بے چینی، بے امنی، نفسا نفسی کا دور دورہ ہے ایسے لگتا ہے کہ بس اب قیامت آ جانی چاہیے۔ کیوں اچانک ہر کسی پر امیر ہونے، پروٹوکول ملنے کا جنون چھاتا جا رہا ہے کیوں انسانیت ختم ہو رہی ہے۔ ہم جانوروں کے لئے عام چیزوں کے لئے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں بے حیائی بے رحمی معاشرے کا جزو بنتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے اندر موجود اس سکیورٹی گارڈ اور کمرے میں بیٹھے افسر کو باہر نکالنا ہو گا۔ ضمیر کی آواز کو سننا ہو گا۔ برداشت کرنا ہو گا۔ رویہ بہتر کرنا پڑے گا۔ اختلاف رائے رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ مثبت سوچ اور پیار محبت کے ساتھ پیش آنا ہو گا ورنہ شائد اتنی دیر ہوجائے کہ وقت واپس نہ آئے اور ہم اس دلدل میں پہنچ جائیں جہاں سے باہر نکلنا مشکل ہو جائے۔

Previous Post

عدم اعتماد بارے کوئی تجویز کسی سطح پر زیر بحث نہیں: عرفان صدیقی

Next Post

ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے پیچھے بھی ’وردی‘ ہے: محسن نقوی

Next Post
ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے پیچھے بھی ’وردی‘ ہے: محسن نقوی

ایران اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے پیچھے بھی ’وردی‘ ہے: محسن نقوی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recent Posts

  • انڈہ توڑنے سے قبل کیسے پہچانیں کہ وہ خراب ہے یا نہیں؟
  • روزانہ 2 کپ چائے پینے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟
  • لیہ/ڈپٹی کمشنر آصف علی کی ضلع بھر میں گرین بیلٹس کی تزئین و آرائش اور بحالی کی ہدایت
  • صائم ایوب پی ایس ایل میں ری ٹین ہونے والے مہنگے ترین کھلاڑی بن گئے
  • یہ خطرناک بات ہےکہ لوگ عباد گاہوں میں محفوظ نہیں، پاکستان میں امن کیلئے دعا کرتی ہوں: ملالہ

Recent Comments

  1. پرتگال کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان – ghazwanews.com از بلاول کا ایک بار پھر بی آئی ایس پی کے ذریعے سیلاب متاثرین تک امداد پہنچانے کا مطالبہ
  2. Ikram ul haq khan از تیس ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ
  3. غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری، پناہ گزینوں کے کیمپ نذر آتش، مزید 45 فلسطینی شہید – ghazwanews.com از تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ ، امریکہ کی چین پر ٹیرف کی شرح 245 فیصد کرنے کی تیاری
  4. شہباز از قومی ائیرلائن نے 21 سال بعد اربوں روپے کا خالص منافع حاصل کر لیا
  5. Riaz ul hassan از ’’گندم اگاؤ‘‘ انعامی سکیم کے تحت کاشتکاروں کیلئے مفت ٹریکٹر کی فراہمی
No Result
View All Result
  • لیہ
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • کھیل
  • تجارت
  • ٹیکنالوجی
  • صحت
  • شوبز
  • موسم
  • کالم