کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق ستمبر 2025 میں ترسیلات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر کے مہینے میں پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 3 ارب 18 کروڑ ڈالر وطن بھیجے، جو گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں ایک مثبت معاشی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب کا ہے، جہاں مقیم پاکستانیوں نے ستمبر میں تقریباً 75 کروڑ ڈالر اپنے اہل خانہ کو بھیجے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات سے 67 کروڑ ڈالر جبکہ برطانیہ سے 45 کروڑ ڈالر پاکستان منتقل کیے گئے۔ مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر کے دوران، مجموعی طور پر 9 ارب 53 کروڑ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8.4 فیصد زیادہ ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ پاکستانی معیشت کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوطی ملی ہے۔
مزید تفصیلات کے مطابق، گزشتہ تین ماہ میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 2 ارب 31 کروڑ ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 1 ارب 98 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 1 ارب 36 کروڑ ڈالر، یورپ کے دیگر ممالک سے 1 ارب 28 کروڑ ڈالر جبکہ امریکا میں مقیم پاکستانیوں نے 80 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے۔ یہ ترسیلات ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور بالخصوص ان دنوں میں جب درآمدات پر دباؤ اور مالی خسارہ بڑھ رہا ہو، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملک کے معاشی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں حالیہ اضافہ کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں حکومت کی جانب سے بینکاری نظام کے ذریعے ترسیلات کو فروغ دینے کی پالیسی، حوالہ مارکیٹ پر سخت نگرانی، اور زرمبادلہ کے شعبے میں اصلاحات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے کئی ممالک کے ساتھ دوطرفہ اقتصادی معاہدوں اور بہتر سفارتی تعلقات نے بھی ترسیلات میں اضافے کی راہ ہموار کی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تعمیراتی شعبے اور افرادی قوت کی مانگ بڑھنے کے باعث وہاں مقیم پاکستانیوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ترسیلات میں بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان کے کل زرمبادلہ کے ذخائر میں ترسیلاتِ زر کا حصہ سب سے زیادہ ہے، اور اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو رواں مالی سال کے اختتام تک مجموعی ترسیلات 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ صورت حال نہ صرف روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق، حکومت کی کوشش ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ قانونی بینکاری ذرائع سے رقوم بھیجنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس ضمن میں "روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ” اور دیگر مالیاتی اسکیمیں پہلے ہی کامیاب ثابت ہو رہی ہیں۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی میں بیرون ملک پاکستانیوں کا کردار بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہی طبقہ ہر بحران میں ملک کے لیے زرمبادلہ کا سب سے مستحکم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر حکومت ترسیلات کے نظام کو مزید آسان بنائے، فیسوں میں کمی کرے، اور بینکوں کے ذریعے رقم بھیجنے کے عمل کو تیز تر بنائے، تو اگلے چند سالوں میں ترسیلات زر میں دوگنا اضافہ ممکن ہے۔ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان رقوم کو ترقیاتی منصوبوں، صنعتی شعبے کی بحالی اور برآمدات میں اضافے کے لیے استعمال کرے تاکہ پاکستان کی معیشت پائیدار بنیادوں پر استوار ہو سکے۔
یہ تمام اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانی نہ صرف اپنے اہل خانہ بلکہ مجموعی قومی معیشت کے لیے بھی ایک مضبوط سہارا ہیں۔ ان کی محنت اور قربانیوں سے ملک کو ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے جو نہ صرف مالی استحکام بلکہ مستقبل کی ترقی کے لیے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

