کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 18 اکتوبر کو ہم بینظیر بھٹو کے قافلے میں شہید ہونے والے کارکنوں کو یاد کرتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ بینظیر بھٹو نے دہشت گردوں کے خطرات کے باوجود اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر شہادت کو گلے لگا لیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن پر کاربند ہے اور جمہوریت، عوامی خدمت اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کئی سانحات پیش آئے، لیکن سانحہ کارساز ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ وفاق کے خلاف ایک سازش تھی اور اس کے کئی پہلو آج تک غیر شفاف ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ملک میں شفاف تحقیقات اور انصاف کا نظام اب بھی کمزور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور ہر دور میں جمہوریت کے لیے جانیں نچھاور کی ہیں۔ بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج منعقد ہو گا جس میں ملکی سیاسی صورتحال، تنظیمی امور اور وزیراعظم سے حالیہ ملاقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے شہداء کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے متحد ہے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
قبل ازیں، صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی سانحہ کارساز کی برسی پر شہید بینظیر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا اور تمام جمہوری شہداء کو سلام پیش کیا۔ صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ بینظیر بھٹو نے واضح خطرات کے باوجود وطن واپس آ کر اپنے مشن پر ثابت قدمی دکھائی۔ سانحہ کارساز کے بعد بھی وہ زخمیوں کی عیادت اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کے لیے پہنچیں، جو ان کی انسان دوستی، قربانی اور سیاسی عزم کی روشن مثال ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سانحہ کارساز کی برسی پیپلز پارٹی کے لیے ایک یادگار اور جذباتی دن ہے جو اس عہد کی تجدید ہے کہ پارٹی جمہوریت، وفاقی استحکام اور عوامی آزادیوں کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

