تل ابیب: اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق متنازع اور غیر قانونی بل کو ابتدائی مرحلے میں منظور کرلیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق 120 نشستوں پر مشتمل اسرائیلی کنیسٹ میں بل کے حق میں 25 ووٹ جبکہ مخالفت میں 24 ووٹ ڈالے گئے۔ معمولی فرق سے منظور ہونے والے اس بل کو اب مزید غور اور ترامیم کے لیے خارجہ امور و دفاعی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اسے حتمی منظوری کے لیے دوبارہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
سعودی عرب نے اس اسرائیلی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت اسرائیلی آبادکاری اور توسیع پسندانہ عزائم کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، کیونکہ یہ اقدامات مشرقِ وسطیٰ میں امن عمل کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔
قطر نے بھی اسرائیلی فیصلے کو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دو ریاستی حل ہی مسئلہ فلسطین کا واحد پائیدار راستہ ہے، اور عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کو اس توسیع پسندانہ منصوبے سے باز رکھے۔
یہ پیش رفت ایسے موقع پر ہوئی ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل کے دورے پر موجود ہیں اور وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو مستحکم کرنے کے لیے ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے ماضی میں واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دے گی، تاہم حالیہ ووٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت عالمی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر اپنے توسیع پسندانہ منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

