کراچی: پاکستان کرکٹ میں قیادت کی ایک اور بڑی تبدیلی نے نہ صرف شائقین بلکہ ماہرین کو بھی بحث و مباحثے پر مجبور کردیا ہے — کیا واقعی کپتان کی تبدیلی سے قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئے گی؟
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اچانک فیصلے کے تحت محمد رضوان کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹا کر فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو نیا قائد مقرر کردیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ٹیم پہلے ہی غیر یقینی اور منتقلی کے دور سے گزر رہی ہے۔
سابق کپتان اور چیف سلیکٹر معین خان کے مطابق اگر شاہین آفریدی کو قیادت دی گئی ہے تو پھر انہیں مکمل سپورٹ بھی دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹ اس وقت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، اور ایسے ماحول میں کپتان کی تبدیلی مزید انتشار پیدا کر سکتی ہے۔ کپتان کو سلیکشن کمیٹی کی سو فیصد حمایت ملنی چاہیے تاکہ وہ اعتماد سے فیصلے کر سکے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر شاہین کو فیصلوں میں روکا گیا تو وہ کپتانی چھوڑ سکتے ہیں، مجھے لگتا ہے چھ ماہ بعد دوبارہ کپتان تبدیل ہوجائے گا۔
پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم نے شاہین کی تقرری کو مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین کا کپتان بننا وقت کی بات تھی۔ لیکن انہیں اپنے جارحانہ مزاج پر قابو رکھنا ہوگا اور کھلاڑیوں سے بہتر تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ وہ خود جب پہلی بار کپتان بنے تو جذباتی فیصلے کرتے تھے، شاہین کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا اور ہم سب کو اسے سپورٹ کرنا چاہیے۔
سابق کپتان راشد لطیف کے مطابق، محمد رضوان کو کپتانی سے ہٹانے کے پیچھے صرف کرکٹنگ وجوہات نہیں بلکہ ایک پرانا تنازع بھی شامل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ایس ایل کے دوران رضوان نے ایک بیٹنگ کمپنی کے لوگو کو ٹیپ سے چھپایا تھا، جس سے بورڈ کے کچھ عہدیداران ناراض ہوئے۔ رضوان کو 27 اکتوبر 2024 کو کپتان بنایا گیا تھا، لیکن اس واقعے کے بعد بورڈ نے ان پر سخت نظر رکھی۔ راشد لطیف کے مطابق، رضوان کو کپتانی پر لانے والے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن کے استعفے کے بعد ان کی پوزیشن مزید کمزور ہوگئی تھی۔
پی سی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، یہ فیصلہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی شکایت اور سفارش پر کیا گیا۔ ایڈوائزری پینل اور سلیکشن کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں محمد رضوان کو ہٹا کر شاہین آفریدی کو کپتان مقرر کیا گیا۔ تاہم پی سی بی نے یہ واضح نہیں کیا کہ شاہین کی مدتِ کپتانی کتنی ہوگی۔
اعدادوشمار کے مطابق، محمد رضوان کی بطور کپتان کارکردگی اگرچہ غیر معمولی نہیں، مگر تسلسل ضرور رکھتی ہے۔ مجموعی طور پر انہوں نے 94 ون ڈے میچوں میں 3797 رنز بنائے، اوسط 40.39 رہی۔ بطور کپتان 21 میچز میں قیادت کی، 9 جیتے، 11 ہارے، ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ جیت کا تناسب 43 فیصد رہا۔ 2024 سے 2025 کے دوران انہوں نے 17 میچوں میں 46.33 کی اوسط سے 556 رنز بنائے، لیکن آخری تین میچز میں فارم خراب رہی اور صرف 69 رنز بنائے۔
شاہین شاہ آفریدی اگرچہ محدود اوورز میں بطور بولر شاندار کارکردگی کے حامل ہیں، مگر ان کا بطور کپتان تجربہ زیادہ تر پی ایس ایل تک محدود ہے، جہاں وہ لاہور قلندرز کو تین ٹائٹلز جتوا چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ٹی ٹوئنٹی کے بجائے ون ڈے فارمیٹ کا کپتان مقرر کیا گیا، حالانکہ ان کی سب سے زیادہ کامیابیاں ٹی ٹوئنٹی میں رہی ہیں۔
پاکستان اس وقت دنیا کی چند ایسی ٹیموں میں شامل ہے جہاں تینوں فارمیٹس میں الگ کپتان ہیں۔ شان مسعود ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ہیں، جنہوں نے 14 میچوں میں قیادت کی، 4 جیتے اور 10 میں شکست ہوئی۔ سلمان علی آغا کو ٹی ٹوئنٹی کی قیادت دی گئی، لیکن ان کی کارکردگی مایوس کن رہی، اوسط 10 اور اسٹرائیک ریٹ 79.36 ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے قیادت کی تبدیلی کو اصلاح کے طور پر پیش کیا ہے، مگر اس فیصلے کے محرکات واضح نہیں۔ پاکستانی کرکٹ میں بار بار کی قیادت کی تبدیلی نہ صرف ٹیم کے توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ کھلاڑیوں کے اعتماد پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ شاہین شاہ آفریدی واقعی قومی ٹیم میں نئی روح پھونک سکیں گے یا یہ تبدیلی بھی محض ایک اور تجربہ ثابت ہوگی، جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔

