لندن: برطانوی شاہی خاندان میں ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جہاں بادشاہ چارلس نے اپنے چھوٹے بھائی شہزادہ اینڈریو سے ’پرنس‘ کا لقب واپس لے لیا ہے اور انہیں شاہی رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بکنگھم پیلس کے مطابق اب شہزادہ اینڈریو کو “اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر” کے نام سے جانا جائے گا اور انہیں کسی بھی سرکاری یا شاہی لقب سے نہیں پکارا جائے گا۔
بکنگھم پیلس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ شاہی خاندان کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھا گیا۔ رپورٹوں کے مطابق بادشاہ چارلس نے اپنے بھائی سے یہ خصوصی مراعات واپس لینے کا فیصلہ طویل غور و خوض کے بعد کیا۔ شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ اینڈریو کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رائل لاج، جو ان کی سرکاری رہائش گاہ تھی، کو خالی کرکے نجی رہائش میں منتقل ہوں۔
شہزادہ اینڈریو پر کئی سالوں سے امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات اور جنسی اسکینڈل میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔ ان الزامات کے باعث نہ صرف ان کی شہرت کو نقصان پہنچا بلکہ شاہی خاندان کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹوں کے مطابق، حالیہ مہینوں میں برطانوی میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے یہ دباؤ بڑھ رہا تھا کہ بادشاہ چارلس اپنے بھائی کے خلاف سخت قدم اٹھائیں تاکہ شاہی ادارے کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو نے جنسی الزامات سامنے آنے کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں ڈیوک آف یارک سمیت کئی شاہی القابات سے خود ہی دستبرداری اختیار کی تھی۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ اب بھی ’پرنس‘ کے طور پر جانے جائیں گے، تاہم وہ اپنے شاہی خطابات استعمال نہیں کریں گے۔ لیکن آج کے فیصلے کے بعد بادشاہ چارلس نے ان سے یہ آخری شاہی اعزاز بھی واپس لے لیا ہے۔
شاہی مبصرین کے مطابق، بادشاہ چارلس کا یہ فیصلہ نہ صرف شاہی خاندان میں نظم و ضبط کی علامت ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی رکن کو قانون یا اخلاقی اصولوں سے بالاتر نہیں سمجھتے۔ اس فیصلے سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ شاہی خاندان اپنی ساکھ بچانے کے لیے سخت فیصلے کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
دوسری جانب، شاہی محل کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شہزادہ اینڈریو کو اب کسی بھی سرکاری تقریب یا شاہی نمائندگی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ وہ اپنی زندگی نجی حیثیت میں گزاریں گے اور شاہی اخراجات سے متعلق مراعات سے بھی محروم ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین ایک بدنام زمانہ ارب پتی شخص تھا جس پر نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال کے سنگین الزامات تھے۔ ایپسٹین کے ساتھ شہزادہ اینڈریو کی قریبی دوستی اور ان کی تصاویر منظرعام پر آنے کے بعد سے برطانوی عوام اور میڈیا نے مسلسل سوالات اٹھائے تھے۔
شاہی مبصرین کا کہنا ہے کہ بادشاہ چارلس کا یہ قدم شاہی خاندان کے اندر احتساب اور اصلاح کی نئی روایت کو جنم دے سکتا ہے اور ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسے تمام اراکین کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جن پر کسی قسم کے اسکینڈل یا تنازع کا سایہ ہو۔

