نیویارک کے نومنتخب میئر ظہران ممدانی کی تاریخی کامیابی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے ممدانی سے تعاون کا اعلان کردیا۔
میا می میں بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں نیویارک کامیاب ہو اور وہ ممدانی کی "تھوڑی بہت مدد” کریں گے۔ انتخاب سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ظہران ممدانی کامیاب ہوئے تو وہ نیویارک کے منصوبوں کے لیے فنڈز نہیں دیں گے، تاہم اب ان کے لہجے میں واضح نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک "کمیونسٹ” امریکا کے سب سے بڑے شہر کا میئر بن گیا ہے، دیکھتے ہیں وہ اب کیسے اقدامات کرتے ہیں۔
اپنے ایک اور انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیویارک کے نئے میئر کو واشنگٹن کے ساتھ نیا تعلق قائم کرنا چاہیے، اگر ظہران ممدانی تعاون نہیں کریں گے تو انہیں نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ممدانی سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اگر وہ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو انہیں "واشنگٹن کا احترام” کرنا ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے لہجے میں یہ تبدیلی اس بات کا اعتراف ہے کہ ظہران ممدانی کی کامیابی محض ایک انتخابی جیت نہیں بلکہ امریکا میں بدلتے سیاسی مزاج کی علامت ہے۔ نیویارک جیسے بڑے اور کثیرالثقافتی شہر میں ایک مسلمان اور ترقی پسند نظریات رکھنے والے امیدوار کی فتح نے امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ ٹرمپ کے نرم مؤقف کو وفاقی و ریاستی سطح پر عملی تعاون کی ضرورت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

