امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک سمیت امریکا بھر سے دو درجن سے زائد ارب پتیوں کی بھرپور مخالفت کے باوجود 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ رہنما ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے نئے میئر منتخب ہوگئے۔ یہ انتخاب امریکی سیاست میں ایک تاریخی موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک سوشلسٹ امیدوار نے سرمایہ دار طبقے کی بھرپور مزاحمت کے باوجود عوامی حمایت حاصل کی۔
ظہران ممدانی 1991 میں یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمود ممدانی بھارتی نژاد معروف اسکالر ہیں جبکہ والدہ میرا نائر عالمی شہرت یافتہ فلمساز ہیں جنہوں نے “سلام بمبے” اور “مون سون ویڈنگ” جیسی فلموں سے بین الاقوامی مقام حاصل کیا۔ محمود ممدانی کی کولمبیا یونیورسٹی میں ملازمت کے بعد خاندان نیویارک منتقل ہوا، اُس وقت ظہران کی عمر صرف سات برس تھی۔
فوربز افریقا کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ظہران ممدانی کی زندگی سادہ ہے اور ان کے اثاثے نہایت محدود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نیویارک کے میئر کے طور پر ان کی سالانہ تنخواہ دو لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر ہوگی، جبکہ وہ اس وقت نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے ایک لاکھ بیالیس ہزار ڈالر سالانہ وصول کرتے ہیں۔ فوربز کے مطابق ظہران ممدانی کے مجموعی اثاثے صرف دو لاکھ ڈالر ہیں، جو ان کے حریف سابق گورنر اینڈریو کومو کے مقابلے میں پچاس گنا کم ہیں، کیونکہ کومو کے اثاثوں کی مالیت دس ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔
ظہران ممدانی اپنی سادگی کے باعث بھی عوام میں مقبول ہیں۔ وہ نیویارک سٹی کے علاقے اسٹوریا، کوئنز میں ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں جس کا کرایہ 2250 ڈالر ماہانہ ادا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی ذاتی گاڑی نہیں، وہ روزمرہ سفر کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ اگر وہ میئر کی سرکاری رہائش گاہ گریسی مینشن منتقل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ ماہانہ کرایہ بچا سکیں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ظہران ممدانی سیاست کے ساتھ ساتھ موسیقی سے بھی وابستہ ہیں۔ وہ اپنے ہپ ہاپ کیریئر میں “مسٹر کارڈیمم” (Mr. Cardamom) کے نام سے گانے بناتے ہیں اور اس سے انہیں تقریباً ایک ہزار ڈالر سالانہ میوزک رائلٹی کی مد میں حاصل ہوتے ہیں۔
فوربز رپورٹ کے مطابق ظہران ممدانی کے پاس یوگنڈا کے شہر جنجا میں چار ایکڑ زمین بھی موجود ہے، جس کی مالیت ڈیڑھ لاکھ سے ڈھائی لاکھ ڈالر کے درمیان ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ زمین انہوں نے خود خریدی یا بطور تحفہ ملی۔
ان کے والدین بھی علمی اور فکری دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ والد محمود ممدانی نہ صرف کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں بلکہ وہ سات معروف علمی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق وہ سالانہ دو سے تین لاکھ ڈالر کماتے ہیں۔ دوسری جانب والدہ میرا نائر فلم انڈسٹری میں اپنے کام کے باعث بین الاقوامی شناخت رکھتی ہیں اور انسانی حقوق و سماجی مساوات کی علمبردار سمجھی جاتی ہیں۔
نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی کے انتخاب کو دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کار ایک عوام دوست تحریک کا تسلسل قرار دے رہے ہیں، جہاں محض دولت اور طاقت نہیں بلکہ عوامی شعور اور سوشلسٹ نظریات نے جیت حاصل کی۔

