فیصل آباد: سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا کو فیصل آباد پولیس نے گرفتار کرلیا۔ ذرائع کے مطابق انہیں مختلف مقدمات میں مطلوب ہونے اور عدالت سے سزا یافتہ قرار دیے جانے پر حراست میں لیا گیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ صاحبزادہ حامد رضا کو فیصل آباد سے گرفتار کرکے سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی تحویل قانون کے مطابق جاری رہے گی۔
ذرائع کے مطابق احتجاجی تحریکوں کے دوران حساس اداروں پر حملوں کے الزام میں ان کے خلاف کئی مقدمات درج تھے، جن میں سے ایک مقدمے میں مقامی عدالت نے انہیں 40 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے کافی عرصے سے کوششیں جاری تھیں، تاہم وہ گرفتاری سے بچتے رہے، جس کے بعد آج ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
یاد رہے کہ صاحبزادہ حامد رضا رواں برس ستمبر میں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی ہدایت پر استعفیٰ دیا ہے اور وہ سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔

