واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ سوشل میڈیا بیان میں سابق صدر جو بائیڈن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں امریکی تاریخ کا “بدترین صدر” قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ بائیڈن کا اقتدار ایک “کرپٹ اور غیر شفاف انتخابی عمل” کے ذریعے ممکن ہوا، جس کے نتائج نے امریکا کو سیاسی، اقتصادی اور سفارتی سطح پر کمزور کر دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ بائیڈن کی پالیسیوں نے امریکی عوام کو مایوس کیا ہے اور دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو “ذلت آمیز ترین فیصلہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ناکام منصوبے کے نتیجے میں 13 امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق، یہ قدم امریکا کی فوجی تاریخ پر ایک سیاہ داغ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ بائیڈن کی کمزور قیادت کی وجہ سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام بڑھا اور 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے جیسے واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ “دنیا میں جہاں بھی بحران ہے، وہاں بائیڈن کی ناقص خارجہ پالیسی کا سایہ موجود ہے۔”
سابق صدر نے بائیڈن کی انتخابی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شکست کے بعد انہیں دستبرداری کا اعلان کرنا پڑا، جو ٹرمپ کے مطابق اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قومی مفاد کے تحفظ یا قیادت کے اہل نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی جماعت کے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ امریکا کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے متحد ہوں اور “غلط قیادت کے دور” کو ختم کریں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ بیان آئندہ صدارتی انتخابی مہم کی تیاری کا حصہ ہے، جس میں وہ بائیڈن کے دورِ حکومت کو ناکامیوں سے تعبیر کر کے اپنی حمایت میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

