واشنگٹن / لندن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈاکیومنٹری میں ایڈیٹنگ تنازع نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور چیف ایگزیکٹو نیوز ڈیبورا ٹرنز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں ایک لیک میمو شائع ہوا، جس میں بی بی سی کے مشہور پروگرام پینوراما سے متعلق سنگین انکشافات کیے گئے۔ میمو کے مطابق، پروگرام میں صدر ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کو مبینہ طور پر غلط انداز میں ایڈٹ کیا گیا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ٹرمپ نے کیپیٹل ہل فسادات کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
لیک شدہ میمو کے مطابق، بی بی سی کے سابق مشیر مائیکل پریسکوٹ نے ادارے پر سیاسی جانبداری کے الزامات عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ ادارے کے بعض ذمہ داران نے ایڈیٹنگ کے ذریعے ٹرمپ کی باتوں کا مفہوم تبدیل کر دیا۔ ایڈیٹ شدہ ورژن میں ٹرمپ کو یہ کہتے دکھایا گیا:
ہم کیپیٹل کی طرف چلیں گے، اور میں آپ کے ساتھ ہوں گا، ہم جہنم کی طرح لڑیں گے
یہ جملہ تنازع کی اصل وجہ بنا، کیونکہ ناقدین کے مطابق یہ تقریر کے اصل مواد سے متصادم تھا اور اس نے ٹرمپ کو تشدد پر اکسانے والا ظاہر کیا۔
بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا:
ہم سے کچھ غلطیاں ہوئیں، اور بطور ڈائریکٹر جنرل مجھے اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی ہوگی
دوسری جانب، چیف ایگزیکٹو نیوز ڈیبورا ٹرنز نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ادارے کو ادارتی دیانت داری کے اصولوں پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے
ادھر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پورے معاملے پر بی بی سی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ادارے پر ڈاکٹرنگ یعنی جان بوجھ کر ایڈیٹنگ کے ذریعے حقیقت مسخ کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں کہا:
بی بی سی کے کرپٹ صحافیوں نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، خوش ہوں کہ دی ٹیلی گراف نے ان کا چہرہ بے نقاب کیا
ٹرمپ کے حامیوں نے اس واقعے کو امریکی میڈیا کے بعد اب بین الاقوامی نشریاتی اداروں میں بھی سیاسی جانبداری کی علامت قرار دیا ہے۔ ادھر، بی بی سی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، ادارہ آئندہ چند دنوں میں اس تنازع کی مکمل انکوائری رپورٹ جاری کرے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ ایڈیٹنگ میں جان بوجھ کر تبدیلی کی گئی تھی یا یہ ادارتی غلطی تھی
یہ تنازع نہ صرف بی بی سی کی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا ہے بلکہ میڈیا کی ادارتی غیرجانبداری پر بھی عالمی سطح پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے

