جاپان کی خاتون وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے مبینہ طور پر آسیب زدہ سمجھی جانے والی سرکاری رہائش گاہ میں قیام اختیار کر لیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جاپان کے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں ایک صدی قبل کے جاپانی فوجیوں کی ارواح بھٹکتی ہیں، جبکہ اسی عمارت میں ماضی میں ایک وزیر اعظم کا قتل بھی ہو چکا ہے، جس کے باعث اسے خوفناک اور پراسرار مقام سمجھا جاتا ہے۔
جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے پیر کے روز ٹوکیو میں واقع وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں باقاعدہ طور پر قیام اختیار کیا۔ یہ رہائش گاہ 1929 میں تعمیر کی گئی تھی اور 1930 کی دہائی میں ہونے والی بغاوتوں، سیاسی کشیدگی اور اعلیٰ حکام کے قتل جیسے واقعات کا مرکز رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ماضی کے انہی واقعات کی وجہ سے اس عمارت کو آسیب زدہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم سانائے تاکائیچی نے تمام افواہوں کے باوجود یہاں رہائش اختیار کر کے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔

