راولپنڈی میں ہولی فیملی اسپتال کا ایک نہایت سنگین اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ڈاکٹرز نے ایک نومولود زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، تاہم والدین کی بروقت توجہ اور اصرار پر بچے کی جان بچ گئی۔
تفصیلات کے مطابق نومولود بچے کی پیدائش گزشتہ روز ہولی فیملی اسپتال میں ہوئی تھی۔ والدین کے مطابق بچے کی حالت پیدائش کے فوراً بعد تشویشناک تھی جس کے بعد ڈاکٹرز نے معائنہ کیا اور چند ہی گھنٹوں میں بچے کو مردہ قرار دے دیا۔ اسپتال کی جانب سے باقاعدہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا جس میں یہ تصدیق درج تھی کہ بچے کی میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ جب وہ بچے کو وصول کرنے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ بچے کی سانس چل رہی ہے اور آکسیجن ماسک لگے ہونے کے باوجود اس کی حرکت واضح تھی۔ والدین نے فوری طور پر اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کو آگاہ کیا جس پر بچے کو فوراً وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔ بروقت اقدام کی وجہ سے بچے کی جان بچ گئی اور اس وقت اس کی حالت نازک مگر مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد اسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصویر بھی منظر عام پر آ گئی جس نے عوام میں شدید تشویش اور غم و غصے کو جنم دیا۔ شہری حلقوں کی جانب سے واقعے کو طبی غفلت کی سنگین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچہ Lazarus syndrome کا شکار تھا، جو ایک نایاب طبی حالت ہے جس میں مریض کی سانس اور دل کی دھڑکن اس قدر مدہم ہو جاتی ہے کہ بعض اوقات موت کا شبہ ہو جاتا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اسی غلط فہمی کے باعث ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔
تاہم اسپتال انتظامیہ نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے اجرا میں جو بھی ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واقعے کے بعد محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر سرکاری اسپتالوں میں طبی نظام، احتساب اور مریضوں کی حفاظت سے متعلق سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے، جبکہ عوام کی جانب سے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

