جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد 16 کروڑ سے زائد کمیوٹڈ پنشن حاصل
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے سابق ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہونے پر بالترتیب 16 کروڑ 10 لاکھ روپے اور 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کمیوٹڈ پنشن حاصل کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ریٹائرڈ ججز کو ماہانہ پنشن کے طور پر بالترتیب 11 لاکھ 35 ہزار اور 12 لاکھ 20 ہزار روپے سے زائد رقم مل رہی ہے۔
وزارت قانون و انصاف کی جانب سے ہاؤس رینٹ 3 لاکھ 50 ہزار روپے اور سپیریئر جوڈیشل الاؤنس 11 لاکھ 61 ہزار روپے سے زائد مقرر کیا گیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے مجموعی طور پر 16 سال، ایک مہینہ اور 26 دن جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال، چار مہینے اور 24 دن بطور جج خدمات انجام دیں۔ دونوں ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد احتجاجاً استعفیٰ دیا، جس میں ان کا مؤقف تھا کہ ترمیم نے سپریم کورٹ کے اختیارات کو عملی طور پر کمزور کر دیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 14 نومبر 2025 کو ان کے استعفے باضابطہ طور پر منظور کیے۔
ماہانہ پنشن کی تفصیل:
- جسٹس منصور علی شاہ: 11,35,496 روپے، جس میں ڈرائیور پنشن 91,258 روپے اور میڈیکل الاؤنس 45,799 روپے شامل ہے۔
- جسٹس اطہر من اللہ: 12,20,381 روپے، جس میں ڈرائیور پنشن 91,258 روپے اور خصوصی اضافی پنشن 84,885 روپے شامل ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد مراعات:
- میڈیکل اور رہائش کی سہولت
- مکمل اسٹاف اور یوٹیلٹی بلز کی حد
- سرکاری گاڑی و ایندھن
- سکیورٹی و استثنیٰ
- پرچم پروٹوکول
- بیگمات کے لیے مراعات
- ریٹائرڈ جج اپنی استعمال شدہ سرکاری گاڑی کم قیمت پر خرید سکتے ہیں
گذشتہ سال نومبر میں وفاقی حکومت نے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافہ کیا تھا، جس کے تحت ہاؤس رینٹ اور سپیریئر جوڈیشل الاؤنس میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔

