رحیم یار خان: ایک نایاب میڈیکل کیس سامنے آیا ہے جس میں 5 سالہ بچے کے سینے سے نامکمل نومولود (فیٹس ان فیٹو) نکالا گیا۔
شیخ زید اسپتال کے ترجمان کے مطابق یہ نازک آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا اور 5 سالہ بچے کی حالت تسلی بخش ہے۔ سرجری کرنے والے تھوراسک سرجن ڈاکٹر سلطان محمود اویسی نے بتایا کہ نکالا گیا نومولود قبل از وقت تھا اور اس کی جان نہ بچ سکی۔
ڈاکٹر سلطان محمود اویسی کے مطابق یہ کیس منفرد تھا کیونکہ اکثر فیٹس ان فیٹو کیسز میں بچہ پیٹ میں پایا جاتا ہے، لیکن اس کیس میں نومولود بچے کے سینے میں موجود تھا۔ نکالے گئے بچے کے کئی اعضا تشکیل پا چکے تھے، جن میں ریڑھ کی ہڈی، بال، دانت اور دیگر اعضا شامل تھے، سوائے سر کے۔ نومولود کا وزن تقریباً ایک کلو تھا۔
بی بی سی کے مطابق ڈاکٹر سلطان نے بتایا کہ بچے کو 18 دن کی عمر سے ہی سانس لینے میں دشواری، سینے میں انفیکشن، کھانسی اور اکثر بخار رہنے کی شکایت تھی۔ متعدد ڈاکٹروں کے پاس جانے کے باوجود تشخیص نہیں ہوئی، جب کہ سی ٹی اسکین کے بعد یہ واضح ہوا کہ یہ ‘فیٹس ان فیٹو’ ہے۔
فیٹس ان فیٹو کیا ہے؟
پروفیسر ندیم اختر، ہیڈ آف پیڈیاٹرک سرجری، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے مطابق فیٹس ان فیٹو ایک نایاب طبی کیفیت ہے جس میں ایک بچہ نما چیز دوسرے بچے کے جسم میں پلتی ہے۔ یہ اکثر ٹیومر (سرطان یا رسولی) کی شکل میں ہوتا ہے لیکن عام طور پر جسم میں پھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ زیادہ تر پیٹ کے نچلے حصے میں پایا جاتا ہے۔ اس کیفیت کا نام فیٹس ان فیٹو اس لیے رکھا گیا کہ اس ٹیومر میں بھی تین تہیں (layers) ہوتی ہیں، جیسا کہ فیٹس میں موجود ہوتی ہیں۔
یہ کیس دنیا بھر میں انتہائی نایاب شمار کیا جاتا ہے اور اس کی شناخت اور کامیاب سرجری میڈیکل کمیونٹی کے لیے اہم پیش رفت ہے۔

