کراچی میں آگ سے تباہ ہونے والے گل پلازہ میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے، جہاں میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں ملنے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 61 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق ریسکیو ٹیمیں انتہائی احتیاط کے ساتھ ملبہ ہٹا رہی ہیں اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ مزید متاثرین کو تلاش کیا جا سکے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ دکانداروں کی جانب سے پہلے ہی میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ملنے والی تمام 30 لاشیں ایک ہی کراکری کی دکان سے برآمد ہوئیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ ملبہ ہٹانے کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے اور ترجیحی بنیادوں پر لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد 87 افراد لاپتا تھے، جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
حکام کے مطابق گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد متعدد افراد نے اپنی جان بچانے کے لیے دکانوں کے اندر خود کو بند کر لیا تھا۔ ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی جگہ کی سامنے آئی تھی جہاں سے اب لاشیں اور انسانی باقیات مل رہی ہیں، جس سے اس خدشے کو تقویت ملی ہے کہ آگ کے پھیلاؤ کے دوران وہ باہر نکلنے میں ناکام رہے۔
کراکری دکان کے مالک سلمان نے بتایا کہ ان کی دکان میزنائن فلور پر واقع ہے اور انہوں نے خود اپنی دکان سے 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت دکان میں ان کے کزن، ملازمین، خواتین اور دیگر افراد بھی موجود تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق اب ملبے سے مکمل لاشوں کے بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں، جن کی حالت انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک دو دکانوں سے 21 باقیات سول اسپتال لائی جا چکی ہیں، تاہم یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ 21 باقیات کتنے افراد کی ہیں۔ ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا تھا کہ باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور دانت شامل ہیں، ہڈیوں کے شدید متاثر ہونے کے باعث ڈی این اے سیمپلز لینا بھی ممکن نہیں ہو رہا، جس کی وجہ سے ان باقیات کو ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔
حکام کے مطابق حادثے میں اب تک تین مزید لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ 17 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں۔ شناخت کے عمل کے لیے دیگر طریقہ کار پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو کسی حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ادھر ایڈیشنل آئی جی کراچی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ واقعے میں اب تک تخریب کاری کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں اور معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے ڈمپر غائب ہونے سے متعلق اطلاعات کو بھی غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
کمشنر کراچی نے بتایا کہ رمپا پلازہ کو آگ کے باعث کچھ نقصان پہنچا ہے تاہم عمارت فی الحال خطرناک نہیں ہے۔ دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور عمارت کے خطرناک حصوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
گل پلازہ سانحے کی تحقیقات بھی مسلسل جاری ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کمشنر کراچی کو سات فائلیں جمع کروا دی ہیں، جن میں سے تین فائلیں گل پلازہ سے متعلق زیر التواء عدالتی مقدمات اور خلاف ضابطہ تعمیرات کی دستاویزات پر مشتمل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی روشنی میں ذمہ داران کے تعین کے لیے مزید کارروائی کی جائے گی۔

