ملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور طوفانی موسم کے باعث نظام زندگی مفلوج ہو گیا ہے اور کئی مقامات پر رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاح اور مسافر پھنس گئے ہیں۔ مختلف حادثات میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے شمالی اور بالائی علاقوں میں برفانی طوفان کا سلسلہ جاری ہے۔ زیارت جانے والے سیاحوں کی درجنوں گاڑیاں کوئٹہ زیارت شاہراہ پر پھنس گئی ہیں، جبکہ چمن کے گردونواح میں 100 سے زائد سیاح گاڑیوں میں محصور ہیں۔
این 50 شاہراہ کے مہترزئی، خانوزئی، مسلم باغ سمیت کئی مقامات پر ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے۔ شاہراہ پر برف اور پھسلن کی وجہ سے بین الصوبائی مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں۔ این 50 پر 9 مختلف حادثات میں 27 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وادی تیراہ میں بارش اور شدید برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں روڈ پر پھنس گئیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ کوژک ٹاپ پر شدید سائبیریائی ہوائیں چلنے سے این 25 چمن-کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا۔
شیلاباغ کے قریب پھسلن سے کئی گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔ کوئٹہ میں بھی موسم سرما کی پہلی برفباری ہوئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں جیسے مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال، خیبر میں بھی شدید برفباری ہوئی۔ ضلع خیبر کی وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں روڈ پر پھنس گئیں جبکہ 35 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
شانگلہ میں شدید برفباری کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا، اور چترال میں برفباری سے متعدد رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔
سیاحتی مقام ناران میں 6 انچ اور شوگران میں ڈیڑھ انچ برف پڑ چکی ہے، اور سیاح برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لیے شوگران پہنچ گئے ہیں۔
گلگت بلتستان کے ضلع استور کے بالائی علاقوں میں دو سے تین فٹ برفباری ہوچکی ہے، جس سے تمام بالائی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔ ہنزہ اور نگر میں بھی برفباری ہوئی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے چیپورسن میں برفباری نے خیموں میں مقیم متاثرین کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
چلاس، بابو سر ٹاپ، نانگا پربت، بٹو گاہ، داریل اور تانگیر میں برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش ہوئی جبکہ ہٹیاں بالا، چناری، چکوٹھی، لیپا ویلی، گنگا چوٹی، اڑنگ کیل، گریز، سرگن ویلی سمیت بالائی علاقوں میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے۔
مری میں بھی برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مری ایکسپریس وے جزوی طور پر عام ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

