شمالی بالائی بلوچستان میں برفباری کا سلسلہ تھم گیا ہے، لیکن شدید سائبرین ہواؤں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے۔
شدید سرد موسم کے نتیجے میں کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم گیا، جبکہ تالاب اور سڑکیں بھی برف میں منجمد ہو گئی ہیں۔ شہریوں کو پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے اور کوئٹہ زیارت شاہراہ کئی مقامات پر برف سے ڈھکی ہوئی ہے۔
محکمہ انتظامیہ نے اگلے 24 گھنٹوں کے لیے سیاحوں کی زیارت جانے پر پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ این 50 ژوب ہائی وے بھی کئی مقامات پر بند کر دی گئی ہے۔ چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت، پشین، توبہ اچکزئی اور دیگر علاقوں میں نظام زندگی مفلوج ہو گیا ہے، اور بالائی و پاک افغان سرحدی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر چکا ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے نمک پاشی اور جدید مشینری کا استعمال کرتے ہوئے برف کو ہٹانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے بھی بتایا کہ بالائی علاقوں میں پھسلن سے بچاؤ کے لیے نمک پاشی کا عمل جاری ہے تاکہ شاہراہوں پر سفر محفوظ بنایا جا سکے۔

