وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ اس کا حل صرف عسکری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں جاری بدامنی کو سیاسی مسئلہ قرار دینا درست نہیں، یہ خالصتاً دہشت گردی کا مسئلہ ہے جس کا حل صرف اور صرف عسکری کارروائیوں میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دورانِ جنگ ریاست کے ساتھ ہر طبقہ فکر کو کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی ابہام کی گنجائش نہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ 2018 سے قبل ریاست کی پالیسی مصالحت پر مبنی نہیں تھی، تاہم بعد ازاں مصالحتی پالیسی اپنائی گئی جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گرد عناصر ریاستی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مصالحت کی آڑ میں اپنے نیٹ ورکس مضبوط کرتے ہیں، اسی لیے اب ریاست کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ آئینِ پاکستان کے بعد اگر کوئی سب سے اہم قومی دستاویز ہے تو وہ نیشنل ایکشن پلان ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود تھا، مگر بدقسمتی سے اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق اگر نیشنل ایکشن پلان کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جاتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔
سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کو بلوچستان کے عوام کی دو یا تین فیصد سے زیادہ حمایت حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جب بھی شہروں میں کارروائی کرتے ہیں تو عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچستان میں حالیہ کارروائیوں کے دوران 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 145 دہشت گردوں کی لاشیں سکیورٹی فورسز کے پاس موجود ہیں۔ سرفراز بگٹی کے مطابق ایک سال کے دوران ہزاروں دہشت گرد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی مجموعی تعداد چار سے پانچ ہزار سے زیادہ نہیں۔
گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان حملوں میں ملوث دہشت گردوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 کے قریب تھی۔ انہوں نے بتایا کہ شعبان اور پنجگور میں حملوں سے متعلق سکیورٹی اداروں کے پاس پہلے سے خفیہ معلومات موجود تھیں، تاہم اس کے باوجود دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر کارروائی کی کوشش کی۔
سرفراز بگٹی کے مطابق ان حملوں میں 31 شہری اور 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ نوشکی میں سکیورٹی فورسز کا کومبنگ آپریشن تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور ریاست کسی صورت دہشت گردوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عالمی میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ دہشت گردوں کو دہشت گرد ہی کہیں اور ان کے لیے نرم الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرے۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن عملی طور پر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ، گوادر، پنجگور اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں خودکش بمباروں سمیت 130 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے تھے، جسے سکیورٹی اداروں نے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

