اسلام آباد دھماکے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو تعزیتی خطوط بھیجے گئے ہیں۔
اپنے تعزیتی خطوط میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے تعزیت کرتے ہوئے لکھا کہ مذہبی اجتماع کے دوران نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بربریت اور انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔
روسی صدر نے اپنے خط میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اسلام آباد: مسجد و امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 31 افراد شہید
صدر پیوٹن نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اس المناک سانحے میں پاکستانی عوام کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں جمعے کی نماز کے دوران خودکش دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 30 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 150 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار نے افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ متعدد بار افغانستان کا سفر بھی کر چکا تھا۔
حکومتی ذرائع نے مزید بتایا کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہونے والی ہر بڑی دہشت گرد کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ شامل ہے، جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

