کراچی:کِیا موٹرز پاکستان نے اپنی مشہور گاڑی Stonic EX کو ایک مرتبہ پھر مارکیٹ میں پیش کر دیا ہے، جس کی نئی قیمت 47 لاکھ 67 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس ماڈل کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سے صارفین میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ اپریل 2024 میں کِیا نے اسٹونک EX+ کی قیمت میں 15 لاکھ روپے کی نمایاں کمی کی تھی، جس کے بعد جولائی میں اچانک قیمت بڑھا کر 55 لاکھ 50 ہزار روپے کر دی گئی۔ اس مسلسل رد و بدل سے خریداروں میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوئی۔کچھ صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنے تاثرات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوزوکی آلٹو سے کِیا اسٹونک کی طرف اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں، مگر گاڑی کی ری سیل ویلیو (دوبارہ فروخت) سے متعلق خدشات انہیں فیصلہ کرنے سے روک رہے ہیں۔
گاڑی کی کارکردگی کے حوالے سے میڈیا ذرائع کے مطابق ہائی وے پر اسٹونک 16 سے 17 کلومیٹر فی لیٹر مائلیج دیتی ہے، جو کہ فیول اکانومی کے لحاظ سے ایک مناسب اوسط سمجھا جاتا ہے۔متعدد خریداروں کا کہنا ہے کہ جب وہ گاڑی خریدتے ہیں تو قیمت کچھ اور ہوتی ہے اور جب فروخت کا وقت آتا ہے تو قیمت میں نمایاں کمی ہو چکی ہوتی ہے، جس سے انہیں مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کار ساز اداروں کو قیمتوں میں تسلسل اور شفافیت برقرار رکھنی چاہیے تاکہ صارفین کا اعتماد بحال رکھا جا سکے۔

