لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے سوات میں پیش آنے والے سانحہ کو انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں 10 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن کا تعلق ضلع سیالکوٹ اور مردان سے تھا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے ورثا سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ قدرتی آفات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے اور پوری دنیا نے سانحہ سوات کے دردناک مناظر دیکھے ہیں۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کے دوران بروقت کیوں نہیں پہنچے۔وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے ایسے حادثات اور سانحات ہوتے آ رہے ہیں، لیکن ایئر ایمبولینس کا اجرا ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے؟
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو جھوٹ اور دھوکے میں رکھا جا رہا ہے اور ریسکیو 1122 میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے مقامی لوگوں اور پاک فوج کی مدد کو سراہا جو ہمیشہ ایسے سانحات میں قربانی اور مدد فراہم کرتے ہیں۔

