کراچی: عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کی بہتری کے لیے قانون کی بالادستی اور شفاف فیصلے ناگزیر ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا مخصوص نشستوں سے متعلق پہلا یا آخری جو بھی فیصلہ ہو، اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گزشتہ 17 سال سے حکومت کرنے والی جماعت نے تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے شعبوں کو نظر انداز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2008 میں سندھ میں شرح خواندگی 58 فیصد تھی، جو اب گھٹ کر 57.5 فیصد رہ گئی ہے، حالانکہ 4 ہزار ارب روپے تعلیم پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے 40 فیصد سکولوں میں بیت الخلا کی سہولت موجود نہیں، جس کی وجہ سے بچیاں اسکول نہیں جا سکتیں۔ انہوں نے تھرپارکر میں تعلیمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں صرف 15 فیصد بچے سکول جا رہے ہیں، یہ کیسے ترقی کریں گے؟انہوں نے کراچی میں پانی کی شدید قلت پر بھی پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ شہریوں کو ٹینکروں سے پانی خریدنا پڑ رہا ہے، جب کہ شہر کے کئی علاقوں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں۔

