سلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سانحہ سوات پر خیبرپختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی آفات کے دوران ریلیف کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، افسوس کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود متاثرہ افراد کو ریسکیو نہیں کیا گیا۔
نیوز کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ڈی سی کو معطل کرنا کافی نہیں، استعفیٰ تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو دینا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وزیراعلیٰ کے پاس ہیلی کاپٹر موجود تھا تو ریسکیو کارروائی کے لیے اس کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟
عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن آج تک ایسا ریسکیو سسٹم قائم نہیں ہو سکا جو بروقت لوگوں کو بچا سکے۔انہوں نے مزید کہا: ’’یہ صرف سیاحوں کی نہیں، پی ٹی آئی کے نظام کی موت ہے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کا اصل کام لوگوں کو ریلیف دینا نہیں بلکہ اسلام آباد پر چڑھائی کی تیاری اور ڈنڈے بانٹنا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے ٹیکس کا پیسہ پی ڈی ایم اے پر خرچ ہوتا ہے، لیکن کارکردگی صفر ہے۔

