واشنگٹن / یروشلم:حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران امریکا نے اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے اپنے انتہائی مہنگے اور محدود میزائل سسٹم "تھاد” (THAAD) کے 60 سے 80 انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے، جو اس کے کُل ذخیرے کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں۔
ہر ایک میزائل کی قیمت 12 سے 15 ملین ڈالر ہے، جس کا مطلب ہے کہ امریکا نے صرف چند دنوں میں تقریباً ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے ہتھیار استعمال کیے — جو ایران کے میزائل حملوں کی اصل لاگت سے کہیں زیادہ ہے۔ایران نے اسرائیل پر جوابی کارروائی میں کئی قسم کے بیلسٹک اور ہائپرسانک میزائل داغے، جن میں "غدیر”، "عماد”، "خیبر شکن” اور "فتح-1” شامل تھے۔ یہ وہ میزائل ہیں جنہیں فضا میں روکنا عام دفاعی نظاموں کے لیے مشکل ہوتا ہے، اسی لیے امریکا کو "تھاد” جیسا جدید اور مہنگا نظام استعمال کرنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا ایک سال میں صرف 50 سے 60 تھاد میزائل بناتا ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو جو ذخیرہ صرف 12 دن میں استعمال ہو گیا، اسے دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے امریکا کی دفاعی تیاریوں پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر مستقبل میں کسی اور محاذ جیسے چین یا روس کے خلاف ان میزائلوں کی فوری ضرورت پڑ جائے۔

