استنبول : ترکیہ میں ایک طنزیہ میگزین میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے بعد مقامی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کارٹونسٹ، میگزین ایڈیٹر، اور گرافک ڈیزائنر کو گرفتار کر لیا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے "غلیظ اشتعال انگیزی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک واضح اشتعال انگیزی ہے جو مزاح کے بھیس میں کی گئی ہے۔
صدر اردوان نے مزید کہا کہ ایسے افراد کو قانون کے سامنے جوابدہ کیا جائے گا، اور ان کا یہ اقدام ناقابل برداشت ہے۔ وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اطلاع دی کہ گرافک ڈیزائنر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور میگزین کے دیگر سینئر عہدے داروں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔دوسری جانب، استنبول میں طنزیہ میگزین کے گستاخانہ خاکوں کے شائع ہونے کے بعد عوامی سطح پر احتجاج شروع ہو گیا۔ احتجاج کرنے والے ہجوم اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے شیل پھینکے۔

