نئی دہلی / کولکتہ: نریندر مودی حکومت کے زیرِ سایہ بھارت میں خواتین کے تحفظ سے متعلق بلند بانگ دعوے ایک بار پھر جھوٹے ثابت ہو گئے ہیں۔ کولکتہ لا کالج میں 24 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے نے ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ کے نعرے کو سیاسی سلوگن کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ طالبہ کے ساتھ زیادتی کالج کے گارڈ روم میں ہوئی، جہاں ملزمان—دو سینئر طلبہ اور ایک سابق طالبعلم نے گارڈ کو دھمکا کر اسے بند کیا۔ واقعے کے بعد طالبہ کو بلیک میل بھی کیا جاتا رہا۔ متاثرہ لڑکی نے گمنام شناخت (J، M، P) کے تحت بیانات دیے، جن کی تصدیق میڈیکل رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہو چکی ہے۔ملزم منوجیت مشرا، جو ایک سیاسی تنظیم سے وابستہ ہے، تاحال آزاد گھوم رہا ہے، جو بھارتی عدالتی اور تعلیمی نظام میں طاقتور افراد کی گرفت سے بچاؤ کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ واقعہ کالج انتظامیہ کو میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا، جو سکیورٹی اور شفافیت میں سنگین خلاء کو نمایاں کرتا ہے۔
قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بھارت میں ہر سال 30,000 سے زائد ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ ہر گھنٹے 43 خواتین جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ کیس مودی سرکار کے خواتین مخالف ماحول کی ایک اور کڑی ہے، جس پر امریکا سمیت کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

