خاتون ڈپٹی کمشنر کے بعد چاروں تحصیلوں میں بھی خواتین کو ہی اسسٹنٹ کمشنرز تعینات کر دیا گیا
صبا اصغر علی بطور ڈپٹی کمشنر ضلع سیالکوٹ فرائض سر انجام دے رہی ہیں.سدرہ ستار کو اسسٹنٹ کمشنر پسرور, سعدیہ جعفر کو اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ ,انعم بابر کو اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ اور غلام فاطمہ کو اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال تعینات کیا گیا ہے
پیشے کے لحاظ سے آرکیٹیکٹ اور تعلیم کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی صبا نے 2008 میں یو ای ٹی لاہور سے گریجویشن کی اور 2011 کے سی ایس ایس امتحان میں ملک بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے بلاواٹنک اسکول آف گورنمنٹ سے پبلک پالیسی میں ماسٹرز کیا جہاں انہیں اپنے تھیسس میں ڈسٹنکشن حاصل ہوئی۔صبا علی اصغر اس سے قبل ڈپٹی کمشنر نارووال، چیف انوائرنمنٹ اینڈ کلائمیٹ چینج آفیسر، اور دیگر اہم عہدوں پر اپنی خدمات دے چکی ہیں۔ سیالکوٹ میں ان کی ترجیحات میں تعلیم، صحت، ماحولیاتی تحفظ، اور عوامی فلاح شامل ہیں، جن پر وہ فعال انداز میں عمل پیرا ہیں۔

دریائے چناب کے کنارے واقع ضلع سیالکوٹ چار تحصیلوں اور تقریباً 35 لاکھ آبادی پر مشتمل ضلع ہے.سیالکوٹ کو شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے اور یہاں چاول اور گندم کی فصل اچھی ہوتی ہے.سیالکوٹ کا مجموعی رقبہ 3 ہزار 16 مربع کلو میٹر ہے اور یہ گجرانوالہ ڈویژن میں واقع ہے.گریڈ 19 کی خاتون آفیسر صبا اصغر علی نے 26 اپریل 2024 کو ڈپٹی کمشنر کا چارج سنبھالا .صبا اصغر علی نے چارج سنبھال کر سیالکوٹ کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا.اسسٹنٹ کمشنر تحصیل سیالکوٹ انعم بابر نے 6 مئی 2024 کو چارج سنبھالا تھا.اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ سعدیہ جعفر نے9 جولائی 2025 کو چارج حاصل کیا تھا.اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار نے 8 اپریل 2025 کو چارج سنبھالا تھا.اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال غلام فاطمہ نے 14 اکتبوبر 2024 کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا

پاکستان کا صنعتی مرکز اور عالم شہرت یافتہ شہر سیالکوٹ، جو آلاتِ جراحی اور کھیلوں کے سامان کی تیاری میں اپنا منفرد مقام رکھتا ہے، اب ایک نئے تاریخی مقام پر کھڑا ہے۔ پہلی بار پاکستان کی انتظامی تاریخ میں کسی ضلع کی مکمل سول انتظامیہ خواتین کے سپرد کر دی گئی ہے۔ سیالکوٹ کی ڈپٹی کمشنر، تمام تحصیلوں کی اسسٹنٹ کمشنرز، اور یہاں تک کہ ایلیٹ فورس کی انچارج تک تمام اہم انتظامی عہدوں پر خواتین فائز ہیں، جو نہ صرف ایک مثال قائم کر رہی ہیں بلکہ مؤثر اور بااختیار حکمرانی کا مظاہرہ بھی کر رہی ہیں۔
سیالکوٹ، صدیوں سے تاریخی، صنعتی اور ثقافتی لحاظ سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ضلع سیالکوٹ کی تاریخ میں پہلی بار تمام اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین افسران کو تعینات ہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ حکومت کی ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی کا عملی مظہر ہے، جس کا مقصد خواتین کو فیصلہ سازی میں برابر کا کردار دینا ہے۔
سیالکوٹ کی موجودہ ڈپٹی کمشنرصبا ءاصغر علی نہ صرف ایک قابل، باصلاحیت اور فرض شناس افسر ہیں، ان کی تعیناتی سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ خواتین بھی اعلیٰ سطحی انتظامی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکتی ہیں۔ ان کے ساتھ چاروں تحصیلوں میں بھی خواتین اسسٹنٹ کمشنرز انعم بابر اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ،غلام فاطمہ اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال،سدرہ ستار اسسٹنٹ کمشنر پسروراور سعدیہ جعفراسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ تعینات ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پورے ضلع میں تمام اہم انتظامی عہدے خواتین کے پاس ہیں، جو نہ صرف ضلع بھر کی بچیوں اور نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک عملی مثال ہے بلکہ قومی سطح پر بھی یہ ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ان افسران کی موجودگی نے سیالکوٹ کی انتظامی کارکردگی میں نہ صرف بہتری پیدا کی ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل میں بھی تیزی آئی ہے۔ خواتین افسران کا اندازِ حکمرانی زیادہ مشاورت پر مبنی، ہمدردانہ اور قانون کی پاسداری کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ان کی موجودگی سے شہریوں میں اعتماد بڑھا ہے، بالخصوص خواتین میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ ان کے مسائل اب بہتر طور پر سنے اور سمجھے جا رہے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر صباء اصغر علی کی قیادت میں متعدد اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں، جن میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، عوامی شکایات کا فوری ازالہ، صفائی کے نظام میں بہتری، خواتین کے لیے محفوظ جگہوں کا قیام، اور اسکولوں و اسپتالوں کی نگرانی شامل ہے۔حکومت پنجاب کی ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی کا مقصد خواتین کو صرف نمائشی عہدوں تک محدود رکھنا نہیں بلکہ انہیں فیصلہ سازی میں بااختیار بنانا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں خواتین کے لیے ملازمتوں، تعلیم، صحت اور سکیورٹی کے میدان میں بے شمار اقدامات کیے گئے ہیں۔
خواتین کو سول سروسز میں بھرپور شرکت کی ترغیب دی جا رہی ہے، اور سیالکوٹ کی یہ تازہ تعیناتیاں اس پالیسی کی عملی تصویر بن چکی ہیں۔انتظامی عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے، جیسے سوسائٹی میں پائے جانے والے دقیانوسی تصورات، زمینی سطح پر درپیش مزاحمت، اور بعض اوقات افسرانِ بالا یا ماتحت عملے کا غیر سنجیدہ رویہ۔ لیکن ان خواتین نے اپنی صلاحیت، نظم و ضبط، شفافیت اور اصول پسندی سے ان تمام رکاوٹوں کو عبور کیا ہے۔ یہ افسران نہ صرف نظام کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی ایک رول ماڈل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
سیالکوٹ کے مختلف علاقوں میں عوام کی جانب سے خواتین افسران کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اب زیادہ اطمینان کے ساتھ سرکاری دفاتر کا رخ کرتی ہیں کیونکہ انہیں سنجیدگی سے سنا جاتا ہے۔ مقامی تاجر، سماجی کارکنان، اساتذہ اور نوجوان لڑکیاں اس بات پر خوشی کا اظہار کرتی ہیں کہ ان کے ضلع میں خواتین کے ہاتھ میں اختیار ہے، اور یہ اختیارات عوامی خدمت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔سیالکوٹ کا یہ نیا ماڈل دوسرے اضلاع کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔
اگر اس تجربے کو تسلسل سے کامیابی ملتی ہے، تو یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں دیگر اضلاع میں بھی اسی طرز پر خواتین کو قیادت دی جائے۔ اس سے ایک ایسی فضا پیدا ہو گی جہاں خواتین نہ صرف برابری کی بنیاد پر کام کریں گی بلکہ اپنی ذاتی، سماجی اور قومی ترقی میں مؤثر کردار بھی ادا کریں گی۔سیالکوٹ میں خواتین افسران کی تعیناتی محض ایک سرکاری فیصلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی پیش رفت ہے۔
یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ خواتین نہ صرف قوم کی نصف آبادی ہیں بلکہ وہ ہر شعبہ زندگی میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ صرف سیالکوٹ کی تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک نئی تاریخ کا آغاز ہے ۔یہ ایک ایسی تاریخ رقم ہو رہی ہے جس میں بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں بلکہ انہیں حقیقت کا روپ بھی دیتی ہیں۔

