غزہ : غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 82 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ممکنہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اور عالمی سطح پر فلسطینیوں کو جبراً رفح منتقل کرنے کے اسرائیلی منصوبے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
مرکزی غزہ کے علاقے دیر البلح میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 9 بچے اور 4 خواتین شامل ہیں۔ متاثرین غذائی امداد کے لیے قطار میں کھڑے تھے جب اچانک بمباری ہوئی۔ زخمیوں کو فوری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے اس انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسرائیل سے فوری جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارہ برائے اطفال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اس حملے کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ تصور ظلم قرار دیا ہے اور امداد کی فوری فراہمی پر زور دیا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی حملے کی سخت مذمت کی اور اسے نسل کشی کی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 57,762 فلسطینی شہید اور 137,656 زخمی ہو چکے ہیں۔

