جمہوریہ کانگو میں دو مختلف کشتیوں کو پیش آنے والے ہولناک حادثات نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دونوں حادثات 10 اور 11 ستمبر کو صوبہ ایکواٹور کے مختلف علاقوں میں پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 193 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 150 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
پہلا حادثہ 10 ستمبر کو ایکواٹور کے علاقے بسنکسو میں پیش آیا، جہاں ایک موٹرائزڈ کشتی کے الٹنے سے کم از کم 86 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان میں بڑی تعداد طلبہ کی تھی جو دریائے کانگو کے ذریعے سفر کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں، تاہم گنجائش سے زیادہ مسافروں کے سوار ہونے اور حفاظتی اقدامات کی کمی کو وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حادثے میں بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں۔
اس کے اگلے روز 11 ستمبر کو دریائے کانگو کے کنارے کولیلا علاقے میں ایک اور ہولناک حادثہ پیش آیا۔ ایک کشتی جس میں تقریباً 500 افراد سوار تھے، اچانک آگ بھڑکنے کے بعد الٹ گئی۔ وزارتِ انسانی امور کے مطابق اس حادثے میں 107 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 200 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔ اب بھی 150 کے قریب افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
یہ حادثات جمہوریہ کانگو میں دریا کے ذریعے سفر کی خطرناکی اور حکومتی حفاظتی اقدامات کی کمی کو اجاگر کرتے ہیں۔ مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشتیاں اکثر گنجائش سے زیادہ افراد کو بٹھا لی جاتی ہیں اور مناسب حفاظتی جیکٹس نہ ہونے کے باعث حادثات میں شرح اموات زیادہ رہتی ہے۔کانگو کے صدر نے ان حادثات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے اور حکومتِ کانگو سے دریائی سفر کے حوالے سے سخت حفاظتی قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

