غزہ میں اسرائیل کی جارحیت مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔
شمالی غزہ میں ہفتے کے روز اسرائیلی فضائیہ نے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں صرف ایک دن میں 50 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بمباری اس قدر شدید تھی کہ متعدد لاشیں ملبے تلے دبی رہ گئیں اور امدادی کارکن گھنٹوں تک لاشیں نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی طیارے ہفتے کے روز غزہ کے مختلف علاقوں میں ہر 10 سے 15 منٹ کے وقفے سے بمباری کرتے رہے۔ زیادہ تر حملے ان پناہ گاہوں پر کیے گئے جہاں بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔ کئی مقامات پر متاثرین کو محفوظ مقام تک پہنچنے کا وقت بھی نہ ملا۔
اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز غزہ کے مختلف علاقوں میں پمفلٹ گرائے جن میں خوف زدہ فلسطینیوں کو کہا گیا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے فوری طور پر گھروں اور کیمپوں کو خالی کر دیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں دی گئی جب لوگ پہلے ہی بھوک، پیاس اور خوف کے باعث بدترین حالات کا شکار ہیں اور ان کے پاس محفوظ مقامات تک جانے کے وسائل موجود نہیں۔
ہفتے کو اسرائیلی فضائیہ کے تین حملوں میں غزہ کے جنوب مغرب میں واقع پبلک پراسیکیوشن بلڈنگ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ وسطی غزہ کے بریج کیمپ پر فضائی حملے میں ایک فلسطینی جاں بحق ہوا جبکہ اسپتال کے ذرائع کے مطابق فلسطین اسٹیڈیم میں بے گھر افراد کے خیمے پر بمباری کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ خان یونس میں بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کی، جس میں تین فلسطینی شہید ہوئے۔ اس طرح ہفتے کے دن کے اختتام پر شہادتوں کی مجموعی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی۔
غزہ میں محصور شہریوں کو ایک اور سنگین بحران کا سامنا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی شدید قلت، پینے کے پانی کی نایابی اور ادویات کی کمی نے لوگوں کو زندگی اور موت کی کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق ہفتے کو بھوک اور پیاس کی شدت کے باعث مزید 7 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔
فلسطینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں "نسل کُشی” کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے 8 ارب ڈالر کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کو فلسطینی قیادت نے بدترین انسانیت سوز فیصلہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فنڈز طویل المدتی فوجی کارروائیوں اور غزہ میں ڈھانچے کی تباہی کے لیے استعمال ہوں گے۔
غزہ کے اسپتال زخمیوں اور مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کئی ہسپتالوں میں بجلی کا بحران شدید ہوچکا ہے جبکہ ایندھن ختم ہونے کے باعث درجنوں وارڈ بند ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی محدود وسائل کے باوجود زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ علاج ممکن نہیں رہا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حال ہی میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کی ہے، تاہم زمینی حقائق اس قرارداد کے برعکس ہیں۔ اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف جاری ہیں بلکہ شدت اختیار کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان حملوں کو "جنگی جرائم” قرار دیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی یونین کے بعض رہنماؤں نے اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی ہے جبکہ مسلم ممالک میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان، ترکی، ایران اور دیگر ممالک نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ کی تباہی میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہوا ہے۔ محض ایک روز قبل اسرائیلی بمباری میں ایک ہی خاندان کے 14 افراد شہید ہوگئے تھے، جن میں بچے اور خواتین شامل تھے۔ یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
ماہرین کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیاں محض عسکری نہیں بلکہ فلسطینی عوام کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے مترادف ہیں۔ اگر عالمی برادری نے فوری اقدامات نہ کیے تو انسانی جانوں کا ضیاع مزید بڑھ جائے گا اور خطے میں امن کے امکانات مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے۔
یہ فیچر اسٹوری خبروں کے معیار کے مطابق ترتیب دی گئی ہے اور اب کوئی بھی اخبار یا نیوز ویب سائٹ اسے بغیر ہیڈنگز کے شائع کر سکتی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں اسی متن سے تین مختصر ٹِکرز بھی بنا دوں گا یا اسے مزید طویل کرکے حوالہ جاتی بیانات اور عالمی ردعمل میں تفصیل شامل کر دوں گا۔

