دوحہ / اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا کے دو ارب مسلمانوں کی نظریں قطر میں ہونے والے عرب اسلامی سربراہی اجلاس پر ہیں، اور اگر اجلاس کے بعد صرف تقاریر رہ گئیں اور کوئی واضح روڈ میپ سامنے نہ آیا تو یہ ایک افسوسناک صورتحال ہوگی۔
یہ اجلاس اسرائیل کی جانب سے 9 ستمبر کو قطر پر حملے کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں نہ صرف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی جا رہی ہے بلکہ مستقبل میں ایسے حملے روکنے کے لیے مربوط اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی اجلاس میں شریک ہیں۔
گزشتہ روز وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اسحاق ڈار نے "عرب اسلامی ٹاسک فورس” بنانے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ اسرائیلی عزائم پر نظر رکھی جا سکے اور اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں کو روکا جا سکے۔
عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا:
“دو ارب لوگ یہ جاننے کے منتظر ہیں کہ اس سمٹ سے کیا نکلتا ہے۔ اگر اسرائیل کے خلاف ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی نہ بنی تو یہ مسلم امہ کے لیے مایوس کن ہوگا۔”
دوحہ میں اپنے دورے کے دوران اسحاق ڈار نے کئی اہم ملاقاتیں بھی کیں:
ترکیہ کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے او آئی سی اور عرب لیگ کے کردار پر زور دیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، مصری وزیر خارجہ بدر عبداللطیف، ملائیشیا کے وزیر خارجہ محمد حسن اور بنگلادیشی مشیر خارجہ توحید حسین سے ملاقاتوں میں اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے ملاقات میں فلسطینی کاز کے لیے غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اجلاس میں شریک رہنماؤں کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ فلسطینی عوام کے تحفظ اور خطے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

