رانا ثنا اللہ: پاکستان–سعودی عرب معاہدہ اُمت مسلمہ کے اتحاد کی علامت، عالمِ اسلام کے لیے نیک شگون
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور **رانا ثنا اللہ** نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ اُمت مسلمہ کے دیرینہ خواب کی تکمیل کی سمت ایک بڑا قدم ہے، جو مسلم ممالک کے اتحاد اور عالم اسلام کے لیے نیک شگون اور حوصلے کا باعث ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سعودی عرب معاشی اور پاکستان ایٹمی طاقت ہے، اور جب یہ دونوں طاقتیں اکٹھی ہوں تو دنیا کے لیے ایک نئی سپر پاور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے بقول:
’’پاکستان پر حملہ ہوگا تو اسے سعودی عرب پر حملہ سمجھا جائے گا، اور اگر سعودی عرب پر حملہ کیا گیا تو اسے پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے میں دفاعی پیداوار بڑھانے سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں اور یہ پاکستانی عوام کے لیے فخر کی بات ہے کہ دیگر اسلامی ممالک اپنی دفاعی ضروریات کے لیے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق اس معاہدے کی نوعیت ایسی ہے کہ نیٹو کے علاوہ دنیا میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو اس معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے خوش ہونا چاہیے کہ یہ تعاون پاکستان کے ساتھ بڑھایا گیا، کیونکہ یہ معاہدہ چین کے ساتھ بھی کیا جا سکتا تھا۔بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان نے ہر بار معرکۂ حق میں بھارت کو مؤثر جواب دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ جارحیت نہیں کرتا، مگر حملہ ہوا تو بھرپور دفاع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب مسئلہ کشمیر کا حل بھارت کی اپنی ضرورت بن چکا ہے اور عالمی دباؤ کے باعث یہ مسئلہ مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
پی ٹی آئی کی سیاست پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بارہا پیشکش کی گئی کہ وہ صدقِ دل سے معافی مانگ کر اپنے معاملات درست کریں، مگر بدقسمتی سے اس پر کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی امید پیدا کر رہا ہے بلکہ مسلم دنیا میں مشترکہ دفاع اور اتحاد کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

