واشنگٹن/کابل: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کو واضح دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بگرام ائیربیس امریکا کو واپس نہ دیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کیا کہ
’’اگر افغانستان بگرام ائیربیس واپس نہیں دیتا، جسے بنانے والا امریکا ہے، تو بہت برا ہوگا۔‘‘
امریکی اخبار کے مطابق اس معاملے پر امریکا اور طالبان کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں سے متعلق مذاکرات جاری ہیں جن میں بگرام ائیربیس پر محدود امریکی فوجی تعیناتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات کی قیادت امریکی نمائندہ خصوصی ایڈم بوہلر کر رہے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ امریکا کو بگرام ائیربیس کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ ان کے بقول یہ فوجی اڈہ جغرافیائی لحاظ سے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر ہے جہاں چین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرتا ہے۔
حالیہ برطانیہ کے دورے کے دوران ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم **کیئر اسٹارمر** کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ
’’ہم نے طالبان کو بگرام ائیربیس مفت میں دے دیا لیکن اب ہم اسے واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
ٹرمپ کے اس بیان پر برطانوی وزیر اعظم کے چہرے کے تاثرات حیرت میں بدل گئے اور وہ خاموشی سے ٹرمپ کو دیکھنے لگے۔
یاد رہے کہ 2021 میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران امریکا نے یہ فوجی اڈہ 20 سال بعد افغان حکام کے حوالے کر دیا تھا۔ تاہم صدر ٹرمپ نے اب اعلان کیا ہے کہ انخلا کے وقت چھوڑا گیا اسلحہ اور بگرام ائیربیس واپس لینے کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں نئی کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

