غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ حملے، چین کا فلسطین کی مکمل رکنیت کا مطالبہ
غزہ شہر ایک بار پھر شدید بمباری اور زمینی کارروائیوں کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے مزید فوجی دستے غزہ سٹی میں داخل کرتے ہوئے رہائشی عمارتوں، پناہ گزین اسکولوں اور خیموں پر حملوں کی شدت بڑھا دی ہے۔ صیہونی فوج کے ترجمان کے مطابق تین مختلف ڈویژنز شہر کے مختلف حصوں میں پیش قدمی کر چکی ہیں اور کئی مقامات پر بھاری ہتھیاروں سے حملے جاری ہیں۔
عرب میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے شاتی پناہ گزین کیمپ سمیت متعدد رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان ہوا۔ صرف ایک روز میں 68 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ خان یونس میں امداد کے منتظر مزید 3 فلسطینی بھی اسرائیلی گولہ باری کی زد میں آکر جان کی بازی ہار گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اسپتالوں میں زخمیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے لیکن طبی سہولیات کی کمی کے باعث متاثرین کو بروقت علاج فراہم کرنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس بڑھتی ہوئی انسانی تباہی پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ چین نے ایک بار پھر فلسطین کی اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کی بھرپور حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے بیان میں کہا کہ چین غزہ میں فوری اور جامع جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر فلسطین کو مکمل رکنیت دی جائے۔
وانگ یی نے زور دیا کہ دو برس سے جاری اس جنگ نے بے مثال انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے اور اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دو ریاستی حل کو بھی شدید خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری کے لیے تین ناگزیر اقدامات تجویز کیے جن میں غزہ میں فوری جنگ بندی، فلسطینی عوام کے اپنے علاقے پر حکمرانی کا حق اور دو ریاستی حل پر عملی پیش رفت شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ خوراک، ادویات اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہے جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوکر پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگ بندی کے بغیر علاقے میں کسی بھی قسم کی انسانی امداد ممکن نہیں۔
خطے کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں فوری اور مشترکہ اقدامات نہ کریں تو یہ جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

