اجلاس کی صدارت چیئرمین مولانا راغب حسین نعیمی نے کی جس میں مالیاتی، معاشرتی اور مذہبی معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کونسل کے اعلامیے کے مطابق اپنی ہی جمع شدہ رقم پر ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنا کسی طور پر بھی شرعی طور پر درست نہیں۔ چیئرمین راغب نعیمی نے وضاحت کی کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس ٹیکس کے لیے کوئی معقول جواز موجود نہیں، اپنی ہی ملکیت پر بلا اجازت کٹوتی اسلامی اصولوں کے منافی ہے اور اسے کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس میں دیت کے قانون میں مجوزہ ترمیمی بل پر بھی غور کیا گیا اور کونسل نے اس بل کو مسترد کر دیا۔ کونسل کے مطابق اس ترمیم میں چاندی کو معیار سے خارج اور سونے کی غیر شرعی مقدار کو معیار بنانے کی کوشش کی گئی تھی جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ کونسل نے زور دیا کہ دیت کی شرعی مقداریں یعنی سونا، چاندی اور اونٹ قانون کا حصہ رہیں گی اور ان میں کسی بھی قسم کی کمی یا تبدیلی قابل قبول نہیں۔
کونسل نے شوگر کے مریضوں کے لیے بھی اہم رہنمائی فراہم کی اور کہا کہ اگر حلال اجزا سے تیار شدہ انسولین دستیاب ہو تو خنزیر کے اجزا پر مشتمل انسولین کے استعمال سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ یہ ہدایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاج کے لیے بھی شریعت کی حدود کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
اجلاس میں غیر مدخولہ عورت کو طلاق کی صورت میں نان و نفقہ کی ادائیگی کے بارے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کو بھی قرآن و سنت کے منافی قرار دیا گیا۔ کونسل کے ارکان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں اور اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ خاندانی قوانین شریعت سے ہم آہنگ رہیں۔
مزید برآں، کونسل نے انسانی دودھ بینک کے قیام کی مشروط اجازت دینے پر بھی اتفاق کیا۔ اعلامیے کے مطابق اس معاملے میں مفاسد سے بچاؤ کے لیے پہلے ضروری قانون سازی کی جائے گی اور اس عمل میں اسلامی نظریاتی کونسل کو شامل کیا جائے گا تاکہ تمام پہلو شریعت کے مطابق رہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ کونسل کی یہ سفارشات مستقبل میں ملکی مالیاتی اور قانونی نظام پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔ خاص طور پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے بارے میں دیا گیا فیصلہ حکومت کے لیے پالیسی سازی کے نئے تقاضے پیدا کرے گا اور ممکنہ طور پر بینکنگ نظام میں ایسی تبدیلیوں کی بنیاد رکھے گا جو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔
