اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق ڈپٹی رجسٹرار کی انٹرا کورٹ اپیل پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس میں قرار دیا گیا ہے کہ ایک جج اپنی ہی عدالت کے دوسرے جج کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کر سکتا۔
تفصیلی فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اور آئینی بینچ کمیٹی کے ممبران کو توہین عدالت کا نوٹس برقرار نہیں رہ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ آئینی یا ریگولر کمیٹی میں شامل ججز کیخلاف توہین عدالت کارروائی ممکن ہے یا نہیں؟ اس پر عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کو انتظامی امور میں استثنیٰ حاصل ہے۔
فیصلے کے مطابق ججز کو اندرونی اور بیرونی مداخلت سے مکمل تحفظ دیا گیا ہے، اور کوئی بھی جج اپنی ہی عدالت کے دوسرے جج کے خلاف رٹ یا کارروائی نہیں کر سکتا۔ محمد اکرام چوہدری کیس کے فیصلے کی روشنی میں بھی ججز کیخلاف کارروائی ممکن نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدلیہ جمہوری ریاست میں قانون کی حکمرانی کے محافظ کے طور پر بنیادی ستون ہے، اور یہ اصول طے شدہ ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا جج اُسی عدالت کے دوسرے جج کے سامنے جوابدہ نہیں ہو سکتا۔ جب اعلیٰ عدلیہ کا جج اپنے جج کیخلاف رٹ جاری نہیں کر سکتا تو توہین عدالت کی کارروائی بھی ممکن نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے جج کے خلاف کارروائی صرف سپریم جوڈیشل کونسل کر سکتی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 209 جوڈیشل کونسل کے علاوہ کسی اور فورم پر جج کیخلاف کارروائی کی ممانعت کرتا ہے۔
پس منظر کے مطابق، جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ سے شروع ہونے والی توہین عدالت کارروائی اس وقت سامنے آئی جب سابق ڈپٹی رجسٹرار کے خلاف کیس عدالتی حکم کے باوجود مقرر نہ کیا گیا۔ بعد ازاں متعلقہ بینچ نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی، تاہم سابق ڈپٹی رجسٹرار نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی۔ سپریم کورٹ کے چھ رکنی لارجر بینچ نے اس اپیل پر کارروائی ختم کر دی تھی، اور اب اس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔

