اسلام آباد: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ کرکٹ کے معاملات وہی لوگ بہتر طور پر سنبھال سکتے ہیں جو اس کھیل کو سمجھتے ہیں۔ ٹیلنٹ کو اعلیٰ سطح تک لے جانے کے لیے پروفیشنل اکیڈمیز قائم کرنا ضروری ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ ہر کھلاڑی کو قومی ٹیم کی ٹوپی پہنانے سے معیار بلند نہیں ہوگا، بلکہ گراس روٹ لیول پر محنت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک نے نچلی سطح پر کرکٹ میں بہت زیادہ سرمایہ کاری اور محنت کی ہے۔ محسن نقوی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ پر زیادہ توجہ دیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ موجودہ کھلاڑیوں سے غلطیاں بھی ہو رہی ہیں اور کچھ مسائل ان کے بس سے باہر بھی ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ گراس روٹ لیول پر کرکٹ کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان ٹیم فائنل تک ضرور پہنچے گی اور اس سے پہلے ایک بار پھر کرکٹ پر بات ہوگی۔
شاہد آفریدی نے نوجوانوں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 60 سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن پلیٹ فارم نہ ملنے کے باعث ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے۔ آنے والی نسلوں کے لیے ابھی اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتیں کاروبار نہیں کرتیں بلکہ کاروباری اداروں کو مینج کرتی ہیں۔ پاکستان کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا کردار اہم ہے۔ شمالی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ ہر پاکستانی کو ملک کی ذمہ داری اپنی ذاتی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔
شاہد آفریدی نے اپنے فلاحی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبر میرا گھر ہے۔ میں وہاں اسکول اور اسپتال شروع کرنے جا رہا تھا۔ خواہش ہے کہ حالات بہتر ہوں تاکہ میں وہاں مزید کام کر سکوں۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت کسی ایک صوبے یا شہر کی نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ آزمائش ہے۔

