اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے شفافیت اور سہولت کی جانب بڑا قدم اٹھاتے ہوئے فراڈ متاثرین کو بازیاب شدہ رقم کی آن لائن منتقلی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس اقدام سے متاثرہ افراد کو اپنی رقم وصول کرنے کے لیے نیب دفاتر کے طویل چکروں اور پیچیدہ کارروائیوں سے نجات ملے گی۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے متاثرین کو بروقت اور آسان ادائیگی یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز نیب ہیڈکوارٹرز میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت چیئرمین نیب نے خود کی۔ تقریب میں ابتدائی طور پر B4U فراڈ کیس کے متاثرین کو براہِ راست بازیاب شدہ رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی۔
اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین، ڈائریکٹر جنرلز، نیشنل بینک آف پاکستان کی انتظامیہ اور نیب کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ چیئرمین نیب نے خود آن لائن ادائیگی کا آغاز کیا اور متاثرین کے بینک اکاؤنٹس میں رقم ٹرانسفر کی، جسے نیب کی ڈیجیٹلائزیشن پالیسی میں اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پہلے مرحلے میں نیب متاثرین کو پے آرڈرز کے ذریعے ادائیگی کرتا تھا، جو وقت طلب اور محدود دائرے کا حامل عمل تھا۔ متاثرین کو اپنی رقوم وصول کرنے کے لیے دفاتر کے متعدد چکر لگانے پڑتے اور رقم کے اجراء میں غیر ضروری تاخیر بھی ہوتی تھی۔ نئے نظام کے تحت یہ پورا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متاثرین کو براہِ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں ادائیگی کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق نیب کا یہ فیصلہ نہ صرف شفافیت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ متاثرین کے قیمتی وقت اور اخراجات کی بھی بچت کرے گا۔ یہ اقدام مستقبل میں دیگر بڑے فراڈ کیسز کے متاثرین کے لیے بھی ایک سہل اور تیز رفتار راستہ فراہم کرے گا۔

