نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ تمام وسائل کو نگل رہا تھا اور اس مسئلے سے نمٹنا حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
نیویارک میں توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کے خاتمے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ قرضہ مسلسل بڑھ رہا تھا اور ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہا تھا، مگر اجتماعی کاوشوں کے نتیجے میں اس پر قابو پانے کے اقدامات کامیابی سے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر توانائی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس نے مستعدی سے کام کیا اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے، جس سے یہ منصوبہ ممکن ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اب اگلے مرحلے میں بجلی کے شعبے میں لائن لاسز جیسے بڑے چیلنج پر توجہ دی جائے گی تاکہ پاور سیکٹر کی کارکردگی مزید بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیویارک میں ان کی آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کی معاشی بہتری کو سراہا گیا۔
اس موقع پر وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضہ ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے پر بھاری بوجھ بن چکا تھا، اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے اتفاق رائے سے ایک لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی اسکیم کے تحت آئندہ چھ سال میں گردشی قرضے سے مکمل نجات حاصل کر لی جائے گی، جو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا حصہ ہے۔
وزیر خزانہ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ پاور سیکٹر کے اسٹرکچرل مسائل کے حل کے لیے ایک سال سے کوششیں جاری تھیں اور اب گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ توانائی کے شعبے میں استحکام اور ملکی معیشت پر مثبت اور دور رس اثرات ڈالے گا۔

