سی پیک فیز ٹو نوجوانوں کیلئے ترقی کا نیا دور، پاکستان اور چین کا مشترکہ عزم
بیجنگ: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا فیز ٹو عوام اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کا نیا دور ثابت ہوگا۔ بیجنگ میں سی پیک کے فریم ورک کے تحت 14ویں مشترکہ تعاون کمیٹی (JCC) کا اجلاس شروع ہو گیا جس میں پاکستان اور چین کے وزراء، لائن منسٹریز کے حکام اور ماہرین شریک ہیں، جبکہ اجلاس کی مشترکہ صدارت دونوں ممالک کے وزرائے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں جو اعتماد اور مشترکہ تقدیر میں بندھے ہوئے ہیں، سی پیک فیز ون کے تحت 8 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار، 888 کلومیٹر شاہراہوں کی تعمیر اور گوادر کی ترقی کے اہم منصوبے مکمل ہوئے ہیں، جس سے گوادر ایک ماہی گیر قصبے سے پاکستان کا میری ٹائم گیٹ وے بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کی جدید کاری ریلوے کے نظام کو نئی جان دے گی جبکہ نوجوانوں کے لیے 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس اور انوویشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ وزیر منصوبہ بندی نے مزید بتایا کہ زرعی اصلاحات، الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے، مائننگ کوریڈور اور بارڈر مارکیٹس بھی فیز ٹو کا حصہ ہیں، جبکہ کراچی اور اسلام آباد میں ایکسپورٹ پر مبنی خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ گلگت بلتستان میں 300 میگاواٹ کے سولر منصوبے سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی اور سی پیک کے پانچ کوریڈورز—گروتھ، انوویشن، گرین، لائیولی ہُڈ اور علاقائی روابط—پاکستان کی معیشت کو نئی جہت دیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان 2030 تک اپنی 60 فیصد توانائی صاف ذرائع سے حاصل کرے گا، ڈیجیٹل سلک روڈ کے تحت 5G، فائبر اور ڈیٹا سینٹرز کے ساتھ مشترکہ AI اور کوانٹم لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی جبکہ سی پیک منصوبوں اور چینی عملے کی حفاظت کو حکومت اولین ترجیح دیتی ہے۔

