ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں پہلی بار روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج 28 ستمبر کو فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے۔ یو اے ای میں جاری اس ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں دونوں ٹیمیں اس سے قبل دو بار آمنے سامنے آئیں اور دونوں بار بھارت نے کامیابی حاصل کی۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھارت کو پاکستان پر واضح سبقت حاصل ہے۔ 2007 سے اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان 15 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گئے جن میں بھارت نے 12 اور پاکستان نے 3 میں کامیابی حاصل کی۔ انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر بیشتر کرکٹ تجزیہ کار بھارت کو فائنل کے لیے فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔
اگرچہ ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھارت کا ریکارڈ بہتر ہے، لیکن کثیر ملکی ٹورنامنٹ کے فائنلز میں پاکستان کو برتری حاصل رہی ہے۔ 1985 سے اب تک دونوں ٹیمیں مختلف فارمیٹس کے 5 کثیر ملکی ٹورنامنٹس کے فائنلز میں ٹکرائیں جن میں سے پاکستان نے 3 جبکہ بھارت نے 2 فائنل جیتے۔
پہلا فائنل 1985 میں آسٹریلیا میں ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران ہوا جس میں بھارت نے 8 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ اگلے ہی سال 1986 میں شارجہ میں ہونے والے آسٹریلیشیا کپ کے فائنل میں جاوید میانداد کے آخری گیند پر تاریخی چھکے نے پاکستان کو ایک وکٹ سے کامیابی دلائی۔
1994 میں دونوں ٹیمیں ایک بار پھر شارجہ میں آمنے سامنے آئیں اور اس بار بھی پاکستان نے 39 رنز سے میدان مارا۔ 2007 کے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں بھارت نے جوہانسبرگ میں پاکستان کو 5 رنز سے شکست دی۔
دونوں حریفوں کے درمیان آخری کثیر ملکی فائنل 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں ہوا جہاں لندن کے اوول گراؤنڈ میں پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے بھارت کو 180 رنز سے شکست دی تھی۔
اس کے علاوہ دونوں ٹیمیں تین سہ ملکی ٹورنامنٹ فائنلز میں بھی مدمقابل آئیں جن میں سے دو میں پاکستان اور ایک میں بھارت فاتح رہا۔
کل ہونے والا ایشیا کپ فائنل نہ صرف تاریخی حیثیت رکھتا ہے بلکہ ماضی کے اعداد و شمار اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ اگرچہ بھارت ٹی ٹوئنٹی میچز میں مضبوط ہے، لیکن بڑے ٹورنامنٹس کے فائنلز میں پاکستان کا ریکارڈ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ ایک سنسنی خیز معرکہ ثابت ہونے جا رہا ہے۔

