غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے مسلسل شدت اختیار کر رہے ہیں، تازہ کارروائیوں میں مزید 90 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے جن میں خواتین، بچے اور ایک صحافی بھی شامل ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے شمالی اور وسطی غزہ میں متعدد رہائشی عمارتوں، بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہوں اور خیمہ بستیوں کو نشانہ بنایا۔ کئی مقامات پر اندھا دھند فضائی بمباری اور ٹینکوں سے گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ڈرون نے شمالی غزہ میں میڈیا سے گفتگو کرنے والی نہتی خواتین اور بچوں پر بھی حملہ کیا جس میں کئی افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ہفتے کی صبح سے جاری کارروائیوں میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد لقمہ اجل بن گئے۔
شہید ہونے والوں میں ایک فلسطینی صحافی بھی شامل ہے جس کے بعد غزہ میں اب تک شہید ہونے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد 252 ہو چکی ہے۔ مقامی اسپتالوں میں شدید زخمیوں کی بڑی تعداد لائی جا رہی ہے جبکہ طبی سہولیات اور دواؤں کی کمی کے باعث صورت حال مزید خراب ہو رہی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، تاہم فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ انہیں ٹرمپ کی جانب سے کسی منصوبے یا باضابطہ تجویز کے بارے میں کچھ موصول نہیں ہوا۔
عالمی مبصرین کے مطابق مسلسل بمباری اور انسانی جانوں کے ضیاع نے غزہ کی صورت حال کو ایک سنگین انسانی بحران میں بدل دیا ہے، جہاں خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

