خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں سکیورٹی فورسز نے بڑی کارروائی کے دوران 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جن میں ایک بنگلادیشی شہری بھی شامل تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 26 اور 27 ستمبر کی درمیانی شب درشہ خیل کے علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن میں پاک فوج، اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ کارروائی کے دوران مُلا نذیر گروپ کے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی کمین گاہوں کو گھیرے میں لیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 17 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 7 سے 10 دہشت گرد زخمی ہو کر فرار ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد کئی بڑے دہشت گرد حملوں، سکیورٹی فورسز پر گھات لگانے، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ملوث تھے۔ ان کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ اہم انکشاف ہوا کہ ہلاک دہشت گردوں میں سے ایک بنگلادیشی شہری تھا۔ اس کے قبضے سے بنگلادیش کا قومی شناختی کارڈ، کرنسی نوٹ اور دیگر ذاتی سامان ملا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق یہ شخص مبینہ طور پر تبلیغی سرگرمیوں کے لیے افغانستان گیا تھا، جہاں شدت پسند گروہوں نے اسے اپنے نیٹ ورک میں شامل کرلیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی مختلف کارروائیوں میں 2 سے 3 بنگالی شہری مارے جا چکے ہیں جو شدت پسند گروہوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کی معلومات کی بنیاد پر بنگلادیشی حکام نے بھی اپنے ملک میں 2 مزید مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ علاقے میں مزید سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ زخمی یا فرار دہشت گردوں کو بھی گرفتار کیا جا سکے اور دہشت گرد نیٹ ورک کے بین الاقوامی روابط کی مکمل تفصیل سامنے لائی جا سکے۔

