دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے سنسنی خیز فائنل میں بھارت نے پاکستان کو آخری اوور میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ اپنے نام کیا، مگر یہ مقابلہ کھیل سے زیادہ سیاست کے اثرات کے باعث خبروں کی زینت بن گیا۔
بھارتی ٹیم نے ٹرافی جیتنے کے باوجود چیئرمین ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا، اور اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی۔ محسن نقوی بھی اپنے فیصلے پر قائم رہے جس کے نتیجے میں بھارتی ٹیم کو ٹرافی کے بغیر ہی گراؤنڈ چھوڑنا پڑا۔
اس دوران بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے فائنل کے بعد ایک سیاسی بیان دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ایشیا کپ کے تمام میچز کی فیس بھارتی فوج کو دیں گے۔ یاد رہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران انہیں سیاسی نوعیت کی پریس کانفرنس کرنے پر پہلے ہی جرمانہ کیا جا چکا تھا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم نے اس صورتحال کا بھرپور جواب دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ قومی ٹیم اپنی فائنل میچ کی مکمل فیس رواں برس 7 مئی کو بھارت کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں شہید ہونے والے پاکستانی شہریوں اور بچوں کے نام کرتی ہے۔ پی سی بی نے مزید کہا کہ ہماری دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور یہ اقدام ان شہدا کی یاد میں ایک خراجِ عقیدت ہے۔
یاد رہے کہ 7 مئی کو بھارت نے پاکستان پر میزائل حملہ کیا تھا جس میں متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ پاکستان نے اس جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے نہ صرف دشمن کے 7 طیارے مار گرائے بلکہ کئی اہم بھارتی ایئربیسز کو بھی نشانہ بنایا۔ پاکستانی ردعمل کے بعد بھارت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور اس نے امریکا کے ذریعے جنگ بندی کی درخواست کی۔ امریکی صدر کئی بار یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرے کے پیشِ نظر امریکی مداخلت کے ذریعے سیز فائر ممکن بنایا گیا۔
پاکستانی ٹیم کے اس فیصلے کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی اور سوشل میڈیا پر شائقین نے کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے نہ صرف کھیل کے میدان میں بہترین جذبے کا مظاہرہ کیا بلکہ شہدا کے لیے یہ مالی تعاون ایک تاریخی مثال قائم کرتا ہے۔

